menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aawara Singha (1)

15 0
11.04.2026

یہ کہانی اس بارہ سنگھے کی ہے جسے ایک ایسی پیاس لگی جو ہر کس و ناکس کو نہیں لگتی اور وہ ایک جھیل کے کنارے اپنی پیاس بجھانے کے لیے نکلا۔ یہ واحد بے مثال جانور ہے جس کا نام اس کے جسمانی اعضاء کی تعداد پر رکھا گیا ہے اگر نام ایسے ہی رکھے جاتے تو سانپ کا نام کوئی اور ہی ملتا صرف ایک مور کا نام اس کے پروں کی گنتی کے حساب سے"آٹھ سو پرا" رکھا جاسکتا تھا حالانکہ گینڈے کا ایک ہی سینگ ہوتا ہے مگر اس کو کسی نے آج تلک سنگل سنگھا نہیں پکارا ورنہ یہ جنگل میں ساری عمر single یا کنوارہ سنگھا کہلاتا۔

جی ہاں! خر گوش کا نام بھی ایک دوسرے جانور کے کانوں سے مستعار لیا گیا ہے۔ بارہ سنگھا ایک سینگ کم یا زیادہ ہونے کے باوجود بارہ سنگھا ہی کہلاتا ہے اگر یہ بارہ سے دو زیادہ بھی ہو جائیں تو وہ زیادہ سے زیادہ "دوبارہ" سنگھا ہی کہلائے گا لیکن گیارہ سے مائنس ون سنگھا پھر بھی نہیں اگر وہ اپنا یہی سینگ کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو پھر بھی لاڈلے پن کی وجہ سے اسے کچھ استثنا مل سکتا ہے۔ اتفاق سے دوسری طرف کوے جیسے کئی دوسرے جانور طوطا چشم ہونے کے باوجود کسی اور نام سے مشہور نہیں ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ گھنے جنگل میں ایک بارہ سنگھا اپنے خوبصورت اور قدرتی سجے دھجے سینگوں پر بہت ہی نازاں ہو رہا تھا اور ادھر ادھر ایک "آوارہ" سنگھا بن کر گھوم رہا تھا۔ صبح کی روشنی میں جب وہ جھیل کے کنارے آیا تواس نے ندی کے شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھا، وہ........

© Daily Urdu