menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zindagi Ka Asal Sarmaya

25 0
26.10.2026

کسی انسان کی زندگی کی قیمت اس کے پاس موجود دولت، عہدے، شہرت یا لوگوں کی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی۔ اصل پیمانہ وہ اصول ہیں جن پر وہ تنہائی میں بھی قائم رہتا ہے۔ انسان مجمع میں کیسا دکھائی دیتا ہے، یہ اس کی شخصیت کا صرف ایک رخ ہے، اصل کردار تو اس وقت سامنے آتا ہے جب اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، فائدہ اس کے سامنے ہو اور نقصان کسی دوسرے کے حصے میں آ رہا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی خواہش کا غلام ہے یا اپنے ضمیر کا محافظ۔ بدقسمتی سے ہم نے کامیابی کو حاصل کرنے کے طریقے سے الگ کر دیا ہے۔ ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ کیا حاصل کرنا ہے، مگر یہ سوال اکثر ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا کہ اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا بننا ہے۔

ہم اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں، انہیں کامیاب ہونے کے خواب دکھاتے ہیں، اچھی ملازمت، کاروبار، عہدہ اور آسائش کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن کتنی بار ہم ان سے یہ پوچھتے ہیں کہ تم ایک اچھے انسان کیسے بنو گے؟ ہماری تربیت میں کامیابی کا نقشہ تو موجود ہے، کردار کا نقشہ اکثر غائب ہوتا ہے۔ یہی خلا آگے چل کر ایک عجیب معاشرہ پیدا کرتا ہے جہاں ذہین لوگ بھی دھوکا دے سکتے ہیں، تعلیم یافتہ افراد بھی حق مار سکتے ہیں، صاحبِ اختیار لوگ بھی کمزور کو کچل سکتے ہیں اور مذہبی گفتگو کرنے والا شخص بھی معاملات میں دیانت سے فرار اختیار کر سکتا ہے۔ مسئلہ علم کی کمی نہیں، اقدار کی کمزوری ہے۔ ہم جانتے بہت کچھ ہیں، مگر اپنے علم کو اپنے عمل کا محافظ بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

اصول دراصل انسان کی زندگی کی وہ پوشیدہ لکیر ہیں جو اسے ہر موڑ پر بتاتی ہے کہ کہاں رکنا ہے۔ قانون ہمیں بہت سے کاموں سے روک سکتا ہے، مگر ہر غلط کام قانون کی گرفت میں نہیں آتا۔ ایک دکاندار کم تول........

© Daily Urdu