Rishton Mein Chupa Hasad
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ حسد کا چہرہ تلخ ہوتا ہے، لہجہ سخت ہوتا ہے یا رویہ کھلا ہوا مخالفانہ ہوتا ہے، مگر ڈیجیٹل دور نے حسد کو ایک ایسا لباس پہنا دیا ہے جس میں وہ بظاہر خاموش، مہذب اور بے ضرر دکھائی دیتا ہے۔ اب کسی کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے اس کی مخالفت ضروری نہیں، کبھی کبھی صرف اس کی کامیابی پر خاموش رہ جانا بھی ایک خاص ذہنی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا نے انسانی رویوں کو اس قدر نمایاں کر دیا ہے کہ تعلقات کی بہت سی حقیقتیں ان چھوٹی چھوٹی حرکات میں دکھائی دینے لگی ہیں جنہیں ہم عموماً معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کسی شخص کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے، اس کا اندازہ آج پہلے سے کہیں آسان ہے۔
کون کہاں گیا، کس نے کیا حاصل کیا، کس کا کاروبار بڑھا، کس نے کوئی اعزاز حاصل کیا، کس کے گھر خوشی آئی، سب کچھ ہماری اسکرین پر موجود ہے۔ کچھ لوگ آپ کی زندگی کو مسلسل دیکھتے رہتے ہیں، مگر آپ کی خوشی میں اپنا ایک لفظ شامل کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ وہ آپ کی پوسٹ دیکھتے ہیں، تصویر کھولتے ہیں، کبھی پوری ویڈیو بھی دیکھ لیتے ہیں، مگر ایک چھوٹا سا حوصلہ افزا جملہ لکھنے میں انہیں جیسے کوئی غیر معمولی دشواری پیش آتی ہے۔ یہ خاموشی ہمیشہ حسد نہیں ہوتی، لیکن جب یہ مسلسل، مخصوص اور یک طرفہ ہو جائے تو انسان کو اپنے تعلقات کی نوعیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
اصل مسئلہ صرف ایک لائیک، کمنٹ یا شیئر کا نہیں۔ مسئلہ اس ذہنیت کا ہے جس میں ہم دوسروں کی کامیابی کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی دوست کا آگے بڑھنا ہمارے لیے خوشی کا باعث کیوں نہیں بنتا؟ کسی ہم جماعت کی کامیابی ہمیں اپنی ناکامی کیوں محسوس ہونے لگتی ہے؟ کسی رشتہ دار کے بہتر گھر، بہتر........
