menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Paisa Bachana Bhi Aik Hunar Hai

32 0
17.10.2026

پیسہ بچانا بھی ایک ہنر ہے

ریٹائرمنٹ بظاہر ملازمت کا اختتام ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کی مالی بصیرت، خود اعتمادی اور فیصلوں کا ایک نیا امتحان ہوتی ہے۔ ملازمت کے دوران ہر ماہ تنخواہ کا آنا ایک ایسا معمول بن جاتا ہے جس پر انسان بغیر سوچے بھروسا کرنے لگتا ہے۔ پھر ایک دن تنخواہ رک جاتی ہے اور ایک بڑی رقم ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں زندگی دو راستوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔۔ ایک راستہ سکون، وقار اور محتاط منصوبہ بندی کی طرف جاتا ہے، دوسرا دکھاوے، جذباتی فیصلوں اور غلط سرمایہ کاری کے ذریعے اس سرمائے کو ختم کرکے انسان کو دوبارہ محتاجی کی طرف لے جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ ملازمت کے دوران اپنے مستقبل کی تیاری کرتے رہتے ہیں، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے مستقبل کو سنبھالنے کی تیاری نہیں کرتے۔

برسوں تک اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کو ریٹائرمنٹ پر معقول رقم ملتی ہے۔ یہ رقم دراصل چند مہینوں یا چند سالوں کی کمائی نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے ایک طویل حصے کی محنت کا نچوڑ ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بڑی رقم مل جانا مالی تحفظ کی ضمانت ہے؟ تجربہ بتاتا ہے کہ نہیں۔ بعض لوگ ریٹائرمنٹ کے چند سال بعد مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ ابتدا میں ان کے پاس اتنا سرمایہ موجود ہوتا ہے کہ وہ بقیہ زندگی نسبتاً اطمینان سے گزار سکتے ہیں۔ پھر ایسا کیا ہوتا ہے؟ اکثر اوقات مسئلہ رقم کی کمی نہیں بلکہ رقم کے ساتھ تعلق کی خرابی ہوتا ہے۔ انسان پیسے کا مالک ہوتے ہوئے بھی اس کا محافظ نہیں رہتا۔

سب سے خطرناک غلطی یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی رقم کو اچانک دولت سمجھ لیا جائے، جبکہ حقیقت میں وہ آئندہ زندگی کی آمدنی کا متبادل ہوتی ہے۔ ملازمت کے دوران اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتا ہے تو وہ اس آمدنی کے ساتھ اپنے اخراجات، علاج، بچوں، گھر اور دیگر ضروریات کا انتظام کرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اگر اسے ایک بڑی رقم ملتی ہے تو وہ رقم خرچ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک نئے مالی نظام کی بنیاد رکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ لیکن ہم اکثر ایک بڑی رقم کو مستقل آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے فوری طور پر........

© Daily Urdu