menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Manfi Soch Ka Jaal

23 0
18.10.2026

انسان بظاہر خاموش بیٹھا ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک دنیا مسلسل بول رہی ہوتی ہے۔ چہرے پر سکون ہو سکتا ہے، زبان خاموش ہو سکتی ہے، ہاتھ کسی کام میں مصروف ہو سکتے ہیں، لیکن ذہن کے اندر یادوں، خدشات، خواہشوں، اندیشوں اور سوالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان دوسروں کے سامنے اپنے الفاظ کا انتخاب کرتا ہے، مگر اپنے ذہن میں آنے والے ہر خیال پر اس کا اختیار نہیں ہوتا۔ جیسے ہی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے، ذہن اسے بار بار دہراتا ہے، کسی کی ایک سخت بات برسوں یاد رہتی ہے، جبکہ کسی کی سو محبتیں وقت کی گرد میں کہیں دب جاتی ہیں۔

اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے ذہن میں منفی خیالات کیوں آتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان خیالات کو اپنے اوپر کتنا اختیار دے دیتے ہیں۔ انسانی ذہن کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ خطرے، نقصان، توہین اور ناکامی کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک معمولی تنقید کبھی کبھی تعریفوں کے پورے ذخیرے پر غالب آ جاتی ہے۔ کسی نے برسوں ساتھ دیا ہو، مشکل وقت میں سہارا دیا ہو، بے شمار مرتبہ ہماری غلطیوں کو نظر انداز کیا ہو، مگر ایک موقع پر اس سے کوئی ایسی بات ہو جائے جو ہمارے دل کو لگ جائے تو اچانک اس کی تمام سابقہ اچھائیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

ہم شخص کو اس کی پوری حقیقت کے ساتھ نہیں دیکھتے، بلکہ ایک واقعے کے آئینے میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی ذہنی رویہ گھروں میں فاصلے پیدا کرتا ہے، دوستیاں توڑتا ہے، رشتوں میں بدگمانیاں بھرتا ہے اور بعض اوقات انسان کو ایسے فیصلے تک لے جاتا ہے جن پر بعد میں خود اسے افسوس ہوتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا ہر خیال حقیقت ہوتا ہے؟ کیا ذہن میں آنے والی ہر بات قابلِ اعتماد ہوتی ہے؟ اگر کسی شخص کے بارے میں ہمارے دل میں بدگمانی پیدا ہو جائے تو کیا ضروری ہے کہ وہ واقعی ہمارے خلاف سازش کر رہا ہو؟ اگر مستقبل کے بارے میں خوف پیدا ہو جائے تو کیا لازماً وہی ہونے والا ہے جس کا ہم تصور کر رہے ہیں؟ انسان........

© Daily Urdu