Asatza: Akhir Kab Tak?
بعض اوقات کسی قوم یا طبقے کی سب سے بڑی محرومی معاشی نہیں ہوتی بلکہ نفسیاتی ہوتی ہے۔ وہ لمحہ جب انسان کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کی آواز سنی نہیں جا رہی، اس کی قربانی کی کوئی قیمت نہیں اور اس کی امیدوں کا کوئی خریدار نہیں، دراصل وہی لمحہ اس کی سب سے بڑی شکست کا آغاز ہوتا ہے۔ آج ہمارے اساتذہ بھی شاید اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ بجٹ آ چکا ہے، فیصلے ہو چکے ہیں، ترجیحات طے ہو چکی ہیں اور ایک بار پھر استاد خود کو اس فہرست کے آخری حصے میں کھڑا دیکھ رہا ہے جہاں وعدے تو بہت ہیں مگر نتائج کہیں دکھائی نہیں دیتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے پورا سال وہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہے جو آج اتحاد کے دعوے کر رہے ہیں۔ کل تک اختلافات کی دیواریں اتنی بلند تھیں کہ ایک دوسرے کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی تھی، مگر آج جب نقصان ہو چکا، مطالبات نظر انداز ہو چکے اور مواقع ہاتھ سے نکل چکے تو اچانک اتحاد کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اتحاد کیوں ہوا، سوال یہ ہے کہ یہ اتحاد وقت پر کیوں نہ ہو سکا؟ آخر ہم ہمیشہ حادثے کے بعد حکمت کیوں تلاش کرتے ہیں؟
گورنمنٹ ہائی سکول روپوال میں میرے دوست اور استاد حاجی نثار اکبر (ایس ایس ٹی سائنس) پچھلے اکتیس سال سے شعبہ تدریس سے منسلک ہیں، جب ان سے گفتگو ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی جدوجہد کا المیہ صرف یہ نہیں کہ ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اصل المیہ یہ ہے کہ ہر بار امید اور مایوسی کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جاتا ہے جو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ احتجاج کا اعلان ہوتا ہے تو دور دراز........
