menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sufi Buzurg Shah Abdul Latif Bhittai Par Aik Nazar

40 0
16.09.2026

صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی پر ایک نظر

آج سے پانچ ہزار سال پہلے کی وادیٔ سندھ کی تہذیب یعنی موہن جو دڑو اپنی سادگی، امن پسندی اور نفاست کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ وہاں سے جنگ کے ہتھیار نہیں بلکہ امن اور موسیقی کے آلات ملے۔ شاہ لطیفؒ کا کلام بھی اسی امن پسندی اور سادگی کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے جنگ و جدل کے بجائے ہمیشہ امن، محبت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ ان کا کلام اس پانچ ہزار سالہ پرامن مزاج کا تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم سندھ کی دھرتی پر قدم رکھتے ہیں تو ہواؤں میں ایک عجیب سا سرور اور مٹی میں محبت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ یہ خوشبو کسی عام چیز کی نہیں بلکہ سندھ کے عظیم صوفی شاعر، مفکر اور سچے عاشقِ رسولﷺ، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے کلام کی ہے۔

شاہ لطیف صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسے طبیب بھی تھے جنہوں نے شاعری اور موسیقی کے ذریعے انسانی روح کا علاج کیاوہ علاج جو ڈاکٹر بھی نہیں کرسکتا یعنی امن و محبت کا پیغام یہ وہ پیغام ہے جو کسی کو دوائی کی طرح گھول کر نہیں پلائی جاسکتی اس کے لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی جیسی بصیرت چاہئے۔ آپ اپنی شخصیت اور فکرکے لحاظ سے ایک ایسی منفرد ہستی تھےجو رہتی دنیا تک منفرد ہی رہیں گے۔ شاہ لطیف کو "بھٹائی" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ "بھٹ" یعنی ریت کے ٹیلے پر گزارا۔ مٹی کے ایک ویران ٹیلے کو اپنا مسکن بنانا جواس بات کی دلیل تھا کہ وہ دنیا کے شور شرابے سے دور ہو کر کائنات کے خالق اور اس کی تخلیق پر غور و فکر کرنا چاہتے تھےاسی لیے کہا جاتا ہے کہ نصف رات کو جب دنیا سو رہی ہوتی ہے تو اس وقت خالق سے دعا کرنا افضل سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اسی ریت پر بیٹھ کر وہ سُر بکھیرے جنہوں نے لوگوں کے دلوں کی بنجر زمین کو محبت سے زرخیز کر دیا۔ شاہ صاحب کا سب سے بڑا معجزہ ان کا کلام "شاہ جو رسالو" ہے۔

یہ صرف شاعری کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ انسانی نفسیات، تصوف، فلسفے اور سماجیات کا ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ شاہ صاحب نے اپنے کلام کو مختلف "سُروں" یعنی راگوں میں تقسیم کیا۔ ان کا کلام پڑھا نہیں جاتا بلکہ گایا جاتا ہے۔ انہوں نے موسیقی کو روح کی غذا بنایا اور "تانپورے" کو ایک نیا انداز دے کر صوفیانہ راگ کی بنیاد رکھی جو آج بھی ان کے مزار پر دن رات گونجتا ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا "شاہ جو رسالو" علم و عرفان کا سمندریہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا سمندر ہے جس میں تصوف، نفسیات، فلسفے اور موسیقی کی لہریں ایک ساتھ موجزن ہیں۔

جس طرح سمندر ہر پیاسے کو سیراب کرتا ہے اسی طرح شاہ جو رسالو ہر روح کو تسکین دیتا ہے۔ آپ کے کلام میں جن سات خواتین کرداروں کا ذکر ہے وہ اس سمندر کی تہہ میں چمکنے والے وہ نایاب موتی ہیں جن کی چمک وقت گزرنے کے ساتھ مدہم نہیں ہوتی۔ یہ کردار عزم وحوصلے اور سچے عشق کی لہریں ہیں۔ جس طرح سمندر کسی ایک ملک یا سرحد کا پابند نہیں ہوتا بلکہ پوری زمین کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہےاسی طرح شاہ لطیف کی دعا اور پیغام "عالم سب آباد کریں "کسی ایک طبقے یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے محبت کا ایک وسیع سمندر ہے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کو دنیا کے تمام شعرا سے منفرد کرنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی شاعری میں عورت کو مرکزی کردار حاصل ہے۔ انہوں........

© Daily Urdu