menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sindh Mein Talaba Ki Hazri Ko Monitor Karne Ka Pehla Digital Nizam Mutaraf

18 33
20.02.2026

سندھ میں طلبہ کی حاضری کو مانیٹر کرنے کا پہلا ڈیجیٹل نظام متعارف

عصر حاضر میں سائنس و ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ نئی نئی دریافتیں سامنے آرہی ہیں۔ جس سے بنی نوح انسان کو فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ اب جھوٹ، بے ایمانی، فریب اور دھوکہ دہی کا زمانہ گیا انسان جھوٹ بول سکتا ہے مگر ٹیکنالوجی سے مزین نظام غلط نہیں ہوسکتا۔ دیکھا جائے تو یہ سب انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کا کمال ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا کہ موبائل سم گلیوں، کوچوں اور فٹ پاتھ پر مل جاتی تھیں جو بغیر قومی شناختی کارڈ اور بغیر بائیومیٹرک کے باآسانی مل جاتی تھیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ عوام نے اس کا غلط استعمال شروع کردیا تھا جس سے معاشرے میں مسائل پیدا ہو رہے تھے کال "ٹیرس" نہیں ہوتی تھی اور ٹریس بھی ہو جائے تو بندے کا کوئی آتا پتہ نہیں ملتا تھا خصوصاً خواتین کو کال کرکے تک کیا جاتا تھا یا ایک عرصہ تک نامعلوم کال سے فون کیا جاتا تھا کہ آپ کا بڑا انعام نکلا ہے اس نمبر پر کال کریں جس سے کئی لوگ بیوقوف بنے۔

لہذا حکومت نے ان کالز کا قلع قمع کیا اور پھر حکومت نے فیصلہ کیا کہ بغیر بائیومیٹرک کے کوئی بھی سم نہیں نکالی جاسکتی دیکھا جائے تو بے نام سم دہشتگردی میں بھی استعمال ہوتی تھی اب موبائل سم کا غلط استعمال تقریباً ختم ہوگیا ہے اگر کوئی نادان استعمال کرتا بھی ہے تو فوراً پکڑا جاتا ہے۔ دیکھاجائے تو اب قومی سلامتی کے حوالے سے جتنے بھی شعبے ہیں ان میں بائیومیٹرک کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خصوصاً جب سے "نادرا" نے اپنا سسٹم شروع کیا ہے جس کے تحت جو بھی قومی شناختی کارڈ بناتا ہے اس کو دونوں ہاتھوں کی دس انگلیوں کے فنگر پرنٹ اور چہرے کی تصاویر کھینچی جاتی ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہو ا کہ ایک طرف کمپیوٹرئز ڈیٹا بیس تیار ہوجاتا ہے تو دوسری طرف اس "ڈیٹا بیس"کی مدد سے کئی جرائم پیشہ افراد کو "سی سی ٹی وی" میں واردات کی جو ویڈیو بنتی ہے اس کا"نادرا" کے ڈیٹا بیس سے پہنچانا جاتا ہے جس کی مدد سے کئی جرائم پیشہ افراد اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو پکڑا گیا ہے اور ان کو قانون کے مطابق سزائیں ہوئیں ہیں۔

اسی طرح قومی پاسپورٹ بناتے وقت بھی ہر بندے کی بائیومیٹرک کی جاتی ہے تاکہ فول پروف نظام اپنایا جاسکے۔ ایک وقت تھا کہ لوگ پاسپورٹ پر تصویر تبدیل کرکے امریکہ یا دوسرے یورپی ممالک چلے جاتے تھے لیکن جب سے بائیومیٹرک نظام آیا ہے تب سے اس قسم کی جعلسازی ناممکن ہوگئی ہے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بینکنگ کے شعبہ میں اکاؤنٹ کھولتے وقت کئی بے قاعدگیاں ہورہی تھیں فیک اکاؤنٹ کی بھرمار تھی لوگ دوسروں کے اکاؤنٹ استعمال کررہے تھے لہذ اب بنک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے بھی بائیومیٹرک ضروری قراردی گئی ہے۔ اس لیے صرف وہی شخص اکاؤنٹ کھول سکتا ہے جس کی بائیومیٹرک ڈیٹا پہلے سے درج ہو۔

اس کے علاوہ ہماری عدالتوں میں جو بھی مقدمہ دائر کرتا ہے اس کو بھی بائیومیٹرک کروانا لازمی ہوتی ہے۔ اب موٹروہیکل ٹیکس کا نظام آن لائن کردیا گیا ہے اب عوام کو موٹروہیکل ٹیکس کے لیے نیشنل بنک کی مخصوص برانچوں میں لائن لاگ کر ٹیکس جمع کروانے سے جان چھوٹ گئی ہے۔ آن لائن ٹیکس جمع کروانے سے ایک طرف عوام کا قیمتی وقت بچتا ہے تو دوسری طرف سندھ حکومت کو ٹیکس دینے کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جن کے پاس ٹیکس جمع کروانے کے لیے وقت نہیں ہے یا آفس سے چھٹی نہیں ملتی جو وہ وقت پر ٹیکس جمع کروائیں لیکن اب آئن لائن سسٹم سے باآسانی ٹیکس جمع ہوجاتا ہے۔

دیگر شعبوں سندھ میں گاڑیوں کی خرید و فروخت اور ٹرانسفر میں بھی کئی بے قاعدگیاں ہورہی تھیں کئی گاڑیوں کی جعلی فائل بن گئی تھیں۔ چوری کی گاڑیوں کے جعلی کاغذات بنا کر خریدی اور بیچی جارہی تھیں ان تمام معاملات کی روک تھام کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز حکومت سندھ نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفرز کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی کردی ہے۔ اب تمام نئی اور پرانی گاڑیوں کو رجسٹریشن یا ٹرانسفر کے عمل کے دوران بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔ نیز نئی پالیسی کے تحت تبدیلی تین مرحلوں میں نافذ ہوگی ہے۔ لہذا ڈیجیٹلائزیشن کے بعد نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگئی ہے، دوسری طرف گاڑیوں کی خرید کرنے والوں کی بائیومیٹرک تصدیق ہوگی اور تیسرے طرف گاڑی فروخت کنندہ اور خرید کنندہ دونوں کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی، دیکھا جائے تو سندھ حکومت کا محکمہ ایکسائز تمام عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے کام کررہا ہے اور ابھی یہ صرف شروعات ہیں حکومت سندھ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ صوبہ سندھ عوامی خدمات میں ڈیجیٹالائزیشن کے حوالے سے آگے بڑھے۔

اس تناظر میں اگر ہم ماضی میں جائیں تو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں اس اصلاحات سے پہلے بھی صوبے بھر میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا جدید نظام متعارف کیا تھا جس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن لے لیے سیکورٹی فیچرڈ "ایم وی آر" اسمارٹ کارڈ کا اجراء کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سیکورٹی فیچرڈ "ایم وی آر" اسمارٹ کارڈ کے ذریعے نہ صرف رجسٹریشن ہوسکے گی بلکہ ہمیشہ........

© Daily Urdu