Pakistan Mein Riyasat Aur Shehri Ka Naya Imrani Muahida
پاکستان میں ریاست اور شہری کا نیا عمرانی معاہدہ
کبھی قوموں کو بھی رک کر اپنے آپ سے سوال کرنا پڑتا ہے۔ ہم کون ہیں؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ اور جس منزل کے لیے سفر شروع کیا تھا، کیا آج بھی وہی منزل ہمارے سامنے ہے؟
پاکستان اپنی آزادی کے تقریباً آٹھ عشرے بعد ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں یہ سوالات محض علمی بحث نہیں رہے بلکہ قومی ضرورت بن چکے ہیں۔ معاشی مشکلات، آبادی میں تیز اضافہ، تعلیم کا بحران، انصاف کی سست رفتاری، اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی اور سماجی تقسیم، یہ سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن شاید ان سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے قومی معاملات کو اکثر اشخاص کی عینک سے دیکھا ہے، اداروں اور اصولوں کی نظر سے کم۔
ہم میں سے ہر شخص تبدیلی چاہتا ہے، لیکن شاید ہم میں سے کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ پائیدار تبدیلی کا راستہ کیا ہوتا ہے۔
سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے یورپ میں چند مفکرین نے ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ آخر ریاست وجود میں کیوں آتی ہے؟ کیا ریاست صرف نظم قائم رکھنے کے لیے ہوتی ہے یا اس کا مقصد شہری کی جان، مال، عزت اور آزادی کا تحفظ بھی ہے؟ اسی سوال نے بعد میں Social Contract یا عمرانی معاہدے کے تصور کو جنم دیا۔
تھامس ہوبز Thomas Hobbes کے........
