menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahore Gymkhana Aur Awami Ki Zameen, Kya Ab Insaf Ki Bai Hai?

27 0
22.10.2026

لاہور جمخانہ اور عوام کی زمین، کیا اب انصاف کی باری ہے؟

کبھی کبھی کوئی بات جو ہم سب کے سامنے ہوتی ہے، لیکن ہم اس پر سوال اٹھانا بھول جاتے ہیں، یا سوال اٹھانا نہیں چاہتے۔ شاید اس لیے کہ وہ بات بہت عرصے سے چلی آ رہی ہوتی ہے، شاید اس لیے کہ ہم اسے اپنے معمولات کا حصہ سمجھ لیتے ہیں، یا شاید اس لیے کہ ہمیں لگتا ہے کہ جب سب کچھ اسی طرح چل رہا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔

لاہور جمخانہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک سو ایکڑ سے زیادہ قیمتی سرکاری زمین، لاہور کے دل میں واقع اور اس کا سالانہ کرایہ صرف پانچ ہزار روپے! یہ بات پڑھ کر کوئی بھی شخص ٹھٹک کر سوچے گا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا؟ اور اگر یہ واقعی اتنے برسوں سے ہو رہا تھا تو کیا کسی کو اس کا خیال نہیں آیا؟

اسی سوال کو پہلے اسامہ خاور صاحب نے اپنی تحریر میں اٹھایا، پھر میں نے بھی اپنے کالم "عوامی زمین اور لاہور جمخانہ: پبلک ٹرسٹ کے اصول پر نظرِ ثانی" میں اس معاملے کو دیکھنے کی کوشش کی۔ اب ڈان میں پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی کی خبر پڑھی تو خوشی ہوئی کہ کم از کم یہ سوال اسمبلی تک پہنچا ہے اور وہاں اس پر بات ہو رہی ہے۔

لیکن خوشی کے ساتھ ایک خیال بھی آیا کہ کیا اب واقعی اس معاملے کا کوئی نتیجہ نکلے گا، یا یہ بھی کچھ دن کی بحث کے بعد ہماری نظروں سے اوجھل ہو جائے گا؟

پانچ ہزار روپے سالانہ۔ ذرا سوچیے تو سہی!

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جمخانہ کے چیئرمین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ اتنی بڑی زمین کا سالانہ پانچ ہزار روپے کرایہ بہت کم ہے۔ ان کے مطابق کم از کم ایک کروڑ روپے سالانہ کرایہ ہونا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک کروڑ روپے سالانہ کرایہ مناسب سمجھا جا رہا ہے تو پھر یہ پانچ ہزار روپے کس حساب سے مقرر ہوئے تھے؟ کس نے کیے تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اتنے برسوں تک کسی نے یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی؟

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ عام آدمی اگر سرکاری زمین پر ایک چھوٹی سی دکان بنا لے، یا کسی جگہ پر قبضے کا الزام لگ جائے، تو اسے قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دکانیں گرائی جاتی ہیں، ریڑھیاں ہٹائی جاتی ہیں، لوگوں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ تجاوزات کے خاتمے اور سرکاری زمین واگزار کرانے کے نام پر ہوتا ہے۔

لیکن جب بات لاہور کے قلب میں واقع سو ایکڑ سے زیادہ زمین کی ہو، جو ایک محدود طبقے کے کلب کے استعمال میں ہے، تو معاملہ دہائیوں تک اسی طرح کیوں چلتا رہتا ہے؟

میں کسی کے خلاف ذاتی بات نہیں کرنا چاہتا۔ نہ ہی یہ میرا مقصد ہے کہ کسی ادارے کے بارے میں تحقیق مکمل ہونے سے........

© Daily Urdu