Zanu e Til Miz Kya Hota Hai?
زانوئے "تِل مِذ" کیا ہوتا ہے؟
کراچی سے ایک عزیز طالب علم کا ایک صوتی سوال موصول ہوا ہے: "ایک محاورے کے متعلق وضاحت اور رہنمائی فرما دیں۔ عام طور پراستعمال ہوتا ہے کہ زانوئے، تِل مِذ استوار کیے یا، زانوئے تِل مِذ سیدھے کیے۔ تو یہ صحیح محاورہ اصل میں ہے کیا؟ اس کا ماخذ کیا ہے؟ اور زانوئے، تِل مِذ کیا ہوتا ہے؟"
بچے نے اچھا کیا کہ صوتی سوال کرلیا۔ اس طالب علم کا نام ہم دانستہ نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کو اپنی زبان کا املا اور تلفظ سیکھنے کا موقع تعلیمی اداروں میں ملتا ہے نہ اب ایسی علمی و ادبی محفلیں ہی باقی رہ گئی ہیں جن میں بزرگوں سے درست تلفظ سننے کا موقع ملے۔
عرض یہ ہے عزیزم! کہ آپ نے جس لفظ کا تلفظ "تِل مِذ" کیا ہے، اُس کا درست تلفظ "تَلَم مُذ" ہے۔ ، ت اور، لدونوں پر زبر ہے، جب کہ میم پر تشدید اور پیش ہے: "تَلَمُّذ"۔ عربی میں شاگردی کو کہتے ہیں اور تِلمیذ شاگرد کو۔ تلمیذ کی جمع، تلامیذ بھی ہے اور، تلامذہ بھی۔ شاگرد اگر ہدایت یافتہ ہو جائے یا ہدایت پا جائے تو، تلمیذِ رشید کہلانے لگتا ہے۔ مگر ہم راولپنڈی اسلام آباد والے ایسا کہنے سے سختی سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھیے کہ ان حضرت کو کسی وجہ سے شیخ رشید کا شاگرد قرار دیا جا رہا ہے۔
ہاں تو عزیزِ من! زانوئے تَلَمُّذاستوار کیا جاتا ہے، نہ سیدھا کیا جاتا ہے، نہ طے کیا جاتا ہے، جیسا کہ بعض لوگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ محاورے کے مطابق، زانوئے تلمذ تَہ کیا جاتا ہے۔ ، زانو کیا ہوتا ہے؟ اپنا، زانوآپ تو جانتے اور پہچانتے ہی ہوں گے۔ انسان کی ٹانگ کا گھٹنوں سے اوپر والا حصہ، زانو کہلاتا........
