Qaum Jiska Hafza Kho Gaya
قوم جس کا حافظہ کھویا گیا
آج سے چھے، ساڑھے چھے برس پہلے کا قصہ ہے۔ 2020ء کے اوائل میں ملک کے ایک مؤقر نصاب ساز ادارے سے دعوت ملی:
"چند دنوں کے لیے کراچی چلے آئیے اور ہمارے شہر کے تعلیمی اداروں میں اُردو پڑھانے والے اساتذہ کو اُردو پڑھائیے"۔
ہم حیران رہ گئے: "صاحب! آپ نے عجیب فرمائش کی: ساحلِ سمندر پر چلے آئیے اور مچھلی کے جائے کو تیرنا سکھائیے"۔
زور دار قہقہہ لگایا اور فرمایا: "حضور! پچھلے دو تین عشروں میں نیٹی جیٹی، کے پُلوں تلے خاصا پانی گزر چکا ہے۔ اس پانی کی روانی میں املا، تلفظ، قواعد و انشا سب بَہ گئے"۔
"سب بَہ گئے؟ تعجب ہے! مگر یہ کیا؟ انگریزوں کے رکھے ہوئے نام "Native Jetty" (یعنی ولایتی نہیں دیسی گودی)کا تلفظ آپ نے نیٹی جیٹی، کر کر آج تک محفوظ رکھا ہے۔ آخر یہ کیوں نہیں بہا؟ بقول علامہ تاجورؔ نجیب آبادی:
نہ میں بدلا، نہ وہ بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی میں کیوں کر اعتبارِ انقلابِ ناتواں کر لوں؟
اچھا خیر، یہ فرمائیے کہ تیرنا سکھانے کو اب تک آپ کتنے مچھلی کے جائے، پکڑ کر لائے؟"
جواب ملا: "اب تک مختلف تعلیمی اداروں میں اُردو پڑھانے والے پچیس اساتذہ نے اپنے ناموں کا اندراج کروا لیا ہے"۔
مشورہ دیا: "مزید اندراج نہ کروائیے۔ اتنی تعداد کافی ہے۔ اب باقی تفصیلات بھی ارسال کر دیجے"۔
برنامہ، موصول ہوا تو اُس کا سَرنامہ، (یعنی عنوان) لفظ "Programme" سے مزین تھااور نیچے جلی حروف میں Three days" Urdu Workshop"کی سرخی جمائی گئی تھی۔ تین صفحات پر تین دنوں کی تفصیلات درج تھیں۔ فوراً رابطہ کرنا پڑا:
"سرکار! اُردو پڑھانے والے خاک اُردو پڑھیں گے؟ آپ تو آغاز ہی انگریزی پڑھانے سے کر رہے ہیں۔ اگر چہ انگریزی لفظ پروگرام، اب اُردو زبان کا حصہ ہے اور اس کی جمع بھی اُردو قاعدے کے........
