Naya Qaumi Nisab e Taleem Tayyar Karne Wale Tawajo Farmain
نیا قومی نصابِ تعلیم تیار کرنے والے توجہ فرمائیں
ابھی کل اور پرسوں کی بات ہے، گیارہ اور بارہ فروری کی۔ پاکستان کا نیا قومی نصاب تیارکرنے کے لیے "وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت"کے زیر اہتمام اسلام آباد میں وفاقی اور صوبائی محکمہ ہائے تعلیم کے سربراہوں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ ہماری اس پاکستانی وزارتِ تعلیم کا سرکاری نام انگریزی میں ہے۔ اجلاس کا عنوان بھی انگریزی میں ہے۔ اجلاس کے انعقاد کا اعلان بھی انگریزی زبان میں کیا گیا ہے۔ نئے قومی تعلیمی نصاب کی تیاری میں قومی زبان کی جگہ ہر سطح پر برطانوی زبان کا غلبہ اور دور دورہ دیکھ کر دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں۔ ان کہانیوں میں سب سے دل خراش کہانی انگریزی ذریعۂ تعلیم کے جبری تسلط کی کہانی ہے۔
کہانی یہ ہے کہ استعماری آقاؤں نے ہمارے دورِ محکومی میں جو نظامِ تعلیم دیا تھا، اُس کا نصب العین صرف اور صرف مغربی استعمار کے لیے وفادار غلام تیار کرنا تھا۔ ایسے وفادار غلام جو اپنی اقدار، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنی زبان کو حقیر جانیں۔ اپنی ملت میں کسی خوبی کا نشان نہ پائیں۔ اپنی تعلیمی روایات سے کلیتاً بیگانہ ہوجائیں۔ زندگی اور معاملاتِ زندگی کو استعماری آقاؤں کی عطا کردہ عینک لگاکر دیکھیں اور محض عقلیت، لادینیت، مادّیت اور جدیدیت پرمشتمل چند مفروضات کو علم و دانش کی معراج گردانیں۔ سو، یہ مقصد پورا ہوکر رہا۔
لارڈ الفنسٹن اس مقصد کو اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے: "ہمارا مقصد اِن کالجوں کے ذریعے سے لوگوں کا ایک ایسا گروہ تیار کرنا ہے جو اپنے ذہن و اخلاق کے اعتبار سے ہندوستان میں برطانیہ کی سول ایڈمنسٹریشن میں ملازمت کا اہل ہو"۔ (بحوالہ: "نظامِ تعلیم: نظریہ، روایت، مسائل"۔ از: پروفیسر خورشید احمد۔ ص: 89۔ مطبوعہ دسمبر 1993ء)
انگریزی ذریعۂ تعلیم اس مقصد کے حصول میں کتنا کامیاب رہا؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ہمارا ہر سند یافتہ شخص استعماری دنیا میں ملازمت حاصل کرکے اپنی قوم کی بجائے اُنھیں اقوام کی خدمت........
