menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Magar Ashufta Bayani Meri

25 0
saturday

ایک شگفتہ سر سائل کی طرف سے سوال آیا ہے کہ "سر! آشفتہ سر کسے کہتے ہیں؟"

تو سر! بات یہ ہے کہ اُستاد اور افسر ہی کو نہیں، آج کل ہر صاحبِ حیثیت شخص کو "سر" کہہ کر مخاطب کرنے کا رواج عام ہے۔ جامعات اور دیگر تعلمی اداروں میں تو اب طلبہ و طالبات اپنے اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے اُنھیں رضوان سر، سلمان سر، متین سر اور نعمان سر وغیرہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو آشفتہؔ سر، کوئی شاعر ٹائپ معلّم معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے سر، نے تو یہ بتایا تھا کہآشفتہ سر، عاشقِ نا مُراد یعنی سر پھرے، سِڑی، سودائی، دیوانے، مجنون، مخبوط الحواس یا بدحواس کو کہتے ہیں۔ میرؔکا شعر بھی سنایا تھا:

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اِس آشفتہ سری کا

شور، غوغا، غُل غپاڑا، فتنہ، فساد، بغاوت، بلوے اور ہنگامے کوشورش، کہتے ہیں۔ میرؔ کے شعر سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں میرؔ صاحب سرِ عام غُل غپاڑا کرنے کے الزام میں اور جنونِ عشق، کے کیس کے تحت اندر ہوگئے تھے۔ اندر بھی غُل غپاڑا ہی کرتے رہے۔ اربابِِ زنداں عاجز آ گئے تو خود ہی اپنا علاج بھی بتا دیا کہ اب سنگ باری و سنگساری کے سوا اس پاگل پن کا کوئی مداوا نہیں۔

مجازؔ کی مشہور نظم "اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو" کی تقلیدِ معکوس (Parody)کرتے ہوئے ایک دل خراش رُودادِ زنداں، نذیرؔ احمد شیخ نے بیان کی ہے۔ شاعر جیل سے چھے برس بعد چھُٹ کر آیا تووہ، مبارک باد دینے آدھمکی۔ یہ اُسے دیکھتے ہی کہنے لگے:

اب........

© Daily Urdu