Haye Raam, General Kanu, Lad Gaye
ہائے رام، جنرل کنَؤ، لَد گئے
اتوارکے روز ہم پروفیسر صاحب کے گھر پہنچے تو اُنھیں افسردہ پایا۔ ہفتے کے کسی اور دِن پہنچتے تب بھی اُنھیں ایسا ہی پاتے۔ اُردو کے اُستاد ہیں۔ ماضی تمنّائی اور ماضی شکّی بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ پڑھاتے وقت شک اُن کی پیشانی کی ہرہر شکن سے ہویدا ہوتا ہے۔
ایک روز ایک لڑکا اُن سے کمرۂ جماعت ہی میں پوچھنے لگا: "سر! ماضی شکّی اور ماضی مشکوک میں کیا فرق ہے؟"
اِس بیہودہ سوال پر اُنھیں اپنا ماضی یاد آگیا۔ مزید کئی دِنوں تک افسردہ رہے۔ خیر، تو اُس روز، یعنی اتوار کے روز ہمیں دیکھ کر فرمایا: "ہم تو نئی نسل سے اچھے مستقبل کی تمنّا رکھتے ہیں، مستقبل تمنائی۔ مگر ہمارے ماضی شکّی سے زیادہ اس نسل کا مستقبل مشکوک ہے"۔
فرمایا: "میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا۔ پریپ، میں تھا۔ میاں اب کچی پہلی اور پکّی پہلی، کا مذاق اُڑتا ہے۔ لیکن ملّتِ اسلامیہ پاکستان کے کسی نومولود بچے کو پنگوڑے سے اُٹھاکرPlay Group اور، Preparatory Class میں بِٹھا دیا جائے اور اُسے اُس کے پوپلے منہ سے Prep بولنا سکھایا جائے توکسی کو ہنسی آتی ہے نہ مذاق سوجھتا ہے۔ اکبرؔالٰہ آبادی تو صرف اِسی بات کو رو رہے تھے:
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
مگر اُنھیں کیا معلوم تھا کہ خود اُن ہی کی قوم، غلامی میں قومِ بنی اسرائیل سے بھی کئی درجے گئی گزری ہوجائے گی اور فراعنۂ وقت کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کرکرکے اُن پر فخر و مباہات کا اظہار کیاکرے گی۔ خوشی خوشی اُن کے تعلیمی قتل کے صداقت نامے وصول کیا کرے گی"۔
"پروفیسر صاحب! آخر ہُوا کیا ہے؟"
"بھائی! ہوا یہ کہ جب میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا تو میں نے پوچھا، بیٹا آج کس مضمون کا پرچہ تھا؟ پہلے تو یہ........
