Chiragh e Raah Phir Roshan Ho Gaya
"چراغِ راہ" پھر روشن ہوگیا
تاریخی جریدے "چراغِ راہ" کے اجرائے ثانی کی بات برسوں سے چل رہی تھی۔ خوب اچھی طرح یاد ہے کہ ایک روز یہ تبصرہ نگار اپنے یارِ طرح دار فرحان احمد فلاحی مرحوم (ابنِ مولانا صدر الدین اصلاحیؒ) کے ساتھ پروفیسر خورشید احمدؒ کے کمرے میں داخل ہوا۔ اُس زمانے میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی عمارت اسلام آباد کے ایف سیون مرکز میں ہوا کرتی تھی۔ چائے نوشی کے دوران میں پروفیسر صاحب مرحوم سے پُرانی یادوں کا تبادلہ ہوا تو اُن سے "چراغِ راہ" نئے سرے سے جاری کرنے کی درخواست کی گئی۔ کہنے لگے: "اب مجھ میں اتنی مشقت کی ہمت نہیں رہی۔ اس کام کا بِیڑا آپ لوگ اُٹھالیں تو یہ بہت بڑا احسان ہوگا"۔
اُس محفل میں کی ہوئی بات آئی گئی ہوگئی۔ 26 اگست 2017ء کو جب اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد کے "رائٹرز ہاؤس" میں دائرہ علم و ادب پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تو "چراغِ راہ" جیسے جریدے کی ضرورت ایک بار پھر محسوس ہوئی۔ اُس وقت پروفیسر خورشید احمدؒ برطانیہ میں تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کے توسط سے ایک بار پھر پروفیسر خورشیدؒ سے رابطہ کیا گیا اور اُن سے ایک بار پھر "چراغِ راہ" کے اجرا کی اجازت لی گئی۔ اس بار یہ بارِ گراں ممتاز محقق، معلم اور ادیب ڈاکٹر ظفر حسین ظفر ؔکے دوشِ پُرجوش پر ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے محنتِ شاقہ سے پورا رسالہ تیار کرلیا، مگر کچھ انتظامی اور کچھ مالی رکاوٹیں ایسی حائل ہوئیں کہ یہ خواب ایک بار پھر خواب ہی رہ گیا۔
دائرے کی تشکیل کے آٹھ برس بعد 2 اور 3 نومبر 2025ء کو پنجاب کے ایک دُور اُفتادہ اور تاریخی شہر پھالیہ کے اندر جناب ضیغم مغیرہ کی میزبانی میں دائرہ علم و ادب پاکستان کا ایک "کُل پاکستان مشاورتی اجلاس" ہوا، جس میں پاکستان کے چاروں صوبوں، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے اہلِ قلم مندوبین نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں "چراغِ راہ" کا معاملہ کراچی سے تشریف لائے ہوئے ڈاکٹر اورنگ زیب........
