Wadh Aur Mengal Khandan Ke Androoni Tanazat
وڈھ اور مینگل خاندان کے اندرونی تنازعات
وڈھ، وسطی بلوچستان کا چھوٹا سا ایک قصبہ ہے۔ یہ کوئٹہ کراچی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ خضدار شہر سے اس کا فاصلہ 68 کلومیٹر ہے۔ یہ قدیمی قصبہ ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں اس کا ذکر قبل از مسیح تک جاتا ہے۔ وڈھ کے نواح میں واقع وادیوں اور پب پہاڑ کی غاروں میں قدیم ترین چٹانی نقش و نگار (Cave Paintings) دریافت ہوئے ہیں جن کا تعلق 40,000 قبل مسیح (پتھر کے دور) سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے اطراف میں واقع پہاڑ معدنیات سے مالامال ہیں۔
1948 سے قبل یہ علاقہ ریاستِ کلات کا حصہ تھا۔ یکم مارچ 1974ء کو خضدار کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو وڈھ کو اس کی ابتدائی تحصیلوں میں شامل کیا گیا۔ تحصیل کی کل آبادی اس وقت سوا لاکھ کے قریب ہے، جب کہ وڈھ بازار یعنی قصبے کی آبادی صرف 23 تا 25 ہزار بتائی جاتی ہے۔
"وڈھ" بنیادی طور پر بلوچی اور براہوی زبان میں اس علاقے سے گزرنے والے ایک برساتی نالے کا نام ہے جس کے کنارے یہ قصبہ آباد ہوا۔ لغوی اعتبار سے، مقامی حوالوں اور لغات میں اس کے معنی "ناہموار زمین" کے بھی آتے ہیں۔
وڈھ کی آبادی یوں تو متنوع ہے مگر مینگل قبائل کی اکثریت ہے۔ ہندو بھی یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔ یہ علاقہ ریاست کلات کے زمانے سے مزاحمت اور بلوچ جنگجوؤں کا مسکن رہا ہے۔
یہ سردار عطااللہ مینگل آبائی علاقہ ہے۔ ان کے والد سردار رسول بخش مینگل اپنے قبیلے کے سربراہ تھے۔ 1953 میں یہ سربراہی یعنی سرداری عطااللہ مینگل کے سر آئی۔ وہ جلد ہی میر غوث بخش بزنجو کے سیاسی کاروان میں شامل ہوئے اور ان چند سرداروں میں شامل رہے جنھوں نے قبائلی شناخت پر، سیاسی شناخت کو فوقیت دی۔ اسی لیے وہ بلوچوں کے ایک قدآور........
