Single National Curriculum
اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں ایجوکیشن، صوبائی معاملہ بن گئی۔ یہ ایک بڑا بریک تھرو تھا۔ قبل ازیں یوں تھا کہ تعلیم وفاقی معاملہ تھی، سارا نصاب وہیں بنتا، جس کے باعث اس میں "مقامیت" ناپید ہوتی، "مرکزیت" پہ زور ہوتا۔ پالیسی سازی سے لے کر نصاب سازی تک سب مرکز میں ہوتی۔ صوبائی سبجیکٹ بننے سے یہ ہوا کہ صوبے اب نصاب اپنی ضرورت کے مطابق خود ڈیزائن کر سکتے تھے، خود ترتیب دے سکتے تھے۔
مگر بدقسمتی دیکھیے کہ دس برسوں میں ہم اس قابل نہ ہو سکے کہ اپنا نصاب ترتیب دے سکیں۔ نتیجتاً گزشتہ حکومت کے دوران صوبوں کی اس "نااہلی" کے پیشِ نظر ایجوکیشن کو واپس مرکز لے جانے کا غلغلہ اٹھا۔........
