menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Al Ghazali University Ki Tehqiqat Par Tanz Kyun?

12 0
yesterday

الغزالی یونیورسٹی کی تحقیقات پر طنز کیوں؟

کچھ لوگ نہ خود کوئی مثبت کام کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ کوئی مثبت اور تعمیری قدم اٹھائے تو اس میں خامیاں تلاش کرنا اور اس کا مذاق اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ فرنود عالم بھی انہی لوگوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسے شخص کے طور پر بن چکی ہے، جو مذہب، دینی مدارس، علمائے کرام اور مذہبی طبقے پر مسلسل بلاوجہ تنقید کرتا رہتا ہے۔ ان دنوں موصوف کی تنقید کا مرکز جامعۃ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی ہے۔

فرنود عالم نے الغزالی یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی ان تحقیقی کاوشوں پر طنز کیا جن میں نابینا افراد کی رہنمائی کے لیے ایک اسمارٹ چشمہ اور خواتین و بچوں کی حفاظت کے لیے لوکیشن پر مبنی ایپلی کیشن شامل ہیں۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی دنیا میں پہلے ہی موجود ہے۔ بچوں کی لوکیشن ٹریکنگ، ایمرجنسی الرٹس، اسمارٹ واچز، Google Family Link اور نابینا افراد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون ٹیکنالوجیز کوئی نئی چیز نہیں، ان منصوبوں کو اس انداز میں پیش نہیں کرنا چاہیے جیسے کوئی غیر معمولی سائنسی انقلاب برپا ہوگیا ہو۔

اگر تنقید علمی بنیادوں پر ہو تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، لیکن کسی ادارے یا اس کے طلبہ کی مثبت کوشش کو طنز و تمسخر کا نشانہ بنانا غیر ضروری عمل بلکہ نرا تعصب........

© Daily Urdu