Culture Ya Saqafat Aur Tehzeeb
کلچر یا ثقافت اور تہذیب
یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے، میں آکیڈمی ادبیات پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہا تھا تو ایک مشاعرے کے بعد چائے پر ایک سوال اُٹھا کہ کلچر یا ثقافت کیا ہے۔ ایسے محسوس ہوا کہ کلچر کا لفظ ویسے تو ہر ایک کی زبان پر ہے لیکن اکثر افراد کو اس کے معنی یا صحیح مفہوم کا علم نہیں، اسی لیے آج اس کالم میں کلچر پر بات کریں گے اور اگلے کسی کالم میں تہذیب یا سویلائیزیشن کا جائزہ لیں گے۔
انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ اہم خصوصیت اس کا شعور، اخلاق، Aesthetics کلچر اور تہذیب ہے۔ اگر انسان صرف کھانے، پینے اور بقا کی حدتک محدود رہتا تو کبھی ترقی نہ کرپاتا۔ شیکسپیئر نے اپنے المیہ ڈرامے ہیملٹ میں کہا ہے۔ What is a man, if his chief good n market of his time be just to sleep n feed, a beast no more. لیکن علم، فن، زبان، اخلاق، مذہب، ادب، رسوم و رواج، سائنسی ترقی اور اجتماعی زندگی نے اسے ایک مہذب، ثقافتی اور اخلاقی وجود عطا کیا۔ ثقافت یا کلچر اور تہذیب دو ایسے الفاظ ہیں جو اکثر ایک دوسرے کے مترادف سمجھے جاتے اوراستعمال ہوتے ہیں حالانکہ ان کے مفہوم اور دائرہ کار میں واضح فرق موجود ہے۔ کلچر یاثقافت انسان کی داخلی، فکری اور روحانی زندگی کی نمایندہ ہے جب کہ تہذیب اس کی مادی، سائنسی اور سماجی ترقی کی علامت ہے۔
انگریزی زبان کے لفظ کلچر کو اردو میں ثقافت کہا جاتا ہے۔۔ لفظ ثقافت عربی زبان کے لفظ ثقف سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں سیکھنا، مہارت حاصل کرنا، تربیت پانا اور ذہنی نشوونما حاصل ہونا۔ انگریزی لفظ کلچر، لاطینی زبان کے لفظ Cultraسے نکلا ہے جس کا اصل مفہوم، زمین کی کاشت تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا مطلب انسانی شخصیت اور معاشرے کی نشوونما قرار پایا۔ مشہور ماہرِ بشریات Anthropologist ایڈورڈ برینٹ ٹائلر کے مطابق کلچر یا ثقافت ایک ایسا پیچیدہ مجموعہ........
