menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Allama Iqbal Par Kufr Ka Fatwa Kese Laga?

30 0
22.04.2026

علامہ اقبال پر کفر کا فتویٰ کیسے لگا؟

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ شاید نظم شکوہ، کے بعد اقبال پر کفر کا فتویٰ لگا تھا مگر یہ کچھ اور معاملہ تھا اور اس کا ہدف اقبال نہیں بلکہ کوئی اور تھے۔ 15 اکتوبر 1925 کی بات ہے کہ اس زمانے کے مشہور اخبار زمیندار، کے پہلے صفحے پر ایک ایسی سنسنی خیز خبر شائع ہوئی جس نے پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

یہ ایک فتویٰ تھا جسے لاہور کی مسجد وزیر خان کے خطیب مولوی دیدار علی الوری نے جاری کیا تھا۔ مولوی دیدار مشہور و معروف عالمِ دین اور مفتی تھے اور ان کا فتوے دینا عام بات تھی۔ مولوی صاحب نے اپنی زندگی میں شاید سینکڑوں فتوے جاری کیے ہوں گے لیکن شاید انہیں اس وقت گمان تک نہ ہوگا کہ ان کے اس فتوے کی دھمک ایک صدی بعد بھی سنائی دے گی۔

یہ فتویٰ علامہ اقبال کے بارے میں تھا۔ وہ اقبال جو اس وقت نہ صرف برصغیر کے اردو فارسی ادبی منظرنامے پر ہمالیہ کی طرح چھائے ہوئے تھے، بلکہ ان کا چرچا افغانستان، ایران اور ترکی کے علمی و ادبی حلقوں میں بھی ہو رہا تھا۔ خسرو، کبیر، وارث شاہ اور ٹیگور کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہو جسے پچھلے ہزار برسوں میں ہندوستان کے طول و عرض میں عوام و خواص دونوں کی طرف سے ایسا والہانہ قبولِ عام ملا ہو، اس لیے اس فتوے پر اتنا شدید ردِ عمل آیا۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اگر اقبال بھی کافر ہے تو پھر مسلمان کون ہے؟

تفصیل بعد میں آئے گی، پہلے فتویٰ پڑھ لیجیے:

اسم پروردگار اور یزدان، عرفان مخصوص جناب باری ہے اور اوتار ہنود کے نزدیک خدا کے جنم لینے کو کہتے ہیں۔ اندرین صورت یزدان اور پروردگار، آفتاب کو کہنا صریح کفر ہے۔ علیٰ ہذا، خدا کے جنم لینے کا عقیدہ بھی کفر اور توہین موسیٰ اور توہین بزرگان دین، فق لہٰذا جب تک ان کفریات سے قائل اشعار مذکور توبہ نہ کرے اس سے ملنا جلنا تمام مسلمان ترک کر دیں، ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔۔

محمد دیدارعلی، خطیب مسجد وزیر خان لاہور

جن لوگوں کو مولوی صاحب کی اردو کے گاڑھا، ہونے کی شکایت ہو ان کے لیے سلیس، اردو میں عرض ہے (یہ الگ بات کہ لفظ سلیس، خود گاڑھا ہو چکا ہے!) مولوی صاحب فرما رہے ہیں کہ مندرجہ ذیل چیزیں کفر ہیں:

لفظ پروردگار اور یزدان، صرف خدا کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے سورج کو پرورگار یا یزدان کہنا

یہ کہنا کہ خدا نے جنم لیا ہے

موسیٰؑ یا دوسرے بزرگانِ دین کی توہین

اب سوال یہ بنتے ہیں کہ کیا اقبال نے واقعی یہ تینوں مذکورہ کام کیے ہیں اور اگر کیے ہیں تو کیا اس پر کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے اور مزید یہ کہ مولوی دیدار کے جاری کردہ فتوے کا پس منظر کیا تھا؟

جیسا کہ دنیا میں عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے، معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے اور اس کی کئی پرتیں ہیں جنہیں ہم کھولنے کی کوشش کریں گے۔ اصل میں مولوی صاحب نے براہِ راست اقبال کے کلام سے یہ قابلِ اعتراض، نکتے دریافت نہیں کیے تھے، بلکہ انہیں ایک خط موصول ہوا تھا جس میں ان کی رائے پوچھی گئی تھی۔

وہ خط یہ ہے: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور امین شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اشعار میں آفتاب کو خدائی صفات کے ساتھ متصف کرے اور اس سے مراد طلب کرے اور آخرت پر یقین نہ رکھے، حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر پر استہزا کرے، علمائے کرام اور پیران عظام پر آوازے کسے اور........

© Daily Urdu (Blogs)