menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Haye Maa Tology (2)

31 0
09.05.2026

ہائے ماں ٹالو جی (ھیماٹالوجی) (2)

یوں ترقی کے اس سفر سے سہولت تو ملی لیکن ساتھ میں انسانی رشتوں کی نوعیت بھی خاموشی سے بدلتی رہی۔ ماں کے ایک چولہے کے گرد بیٹھ کے کھانے والے اپنے الگ الگ چولہے کی جستجو میں نا صرف الگ ہی ہوئے بلکہ کئی ایک تو بکھر بھی گئے۔ کچھ ملکوں ملکوں بکھرے تو کچھ اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کے بکھر گئے اور یوں ہماری معاشرتی، عائلی اور خاندانی اقدار کے ناپید ہونے کا آغاز ہوا۔ رفتہ رفتہ گھروں کے صحنوں کی رونقیں کمروں تک اور پھر کمروں کی محفلیں اپنے اپنے پورشنز تک محدود ہوگئیں۔

لوگوں کے کارزانت (پروفیشنل) ہو جانے سے پہلے کبھی کبھار ہمسایوں سے نمک مانگ لیا جاتا تھا کہ جب کبھی انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو انہیں مانگنے میں ہچکچاہٹ نہ ہو۔ پھر بقالیاتی (گروسری) دور کا زمانہ آیا۔ ہر کوئی اپنی فریج کو بقدرِ ضرورت سے کچھ زیادہ بھرنے لگا کہ سارا سازوسامان گھر ہی میں مل جائے اور آس پڑوس سے کچھ لینا نہ پڑے۔ اپنے آپ ہی میں خوش رہنے کے فلسفے نے اس سارے عمل کو دو آتشہ کر دیا اور یوں حرمیت........

© Daily Urdu (Blogs)