Zindagi Ke Daire Ka Sabaq
زندگی کے دائرے کا سبق
زندگی ایک دائرے کا نام ہے۔ ایک ایسا دائرہ جس میں موت سے زندگی جنم لیتی ہے اور زندگی بالآخر موت میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ فطرت کا اپنا ایک نظام ہے، اپنی زنجیر اور اپنی ترتیب۔ کیچوا مٹی کو زرخیز بناتا ہے، پرندے کیچوے کو کھاتے ہیں، شکاری پرندوں کا شکار کرتے ہیں اور جب بڑے شکاری زندگی کی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں تو ان کے وجود کو بھی فطرت اپنے نظام میں جذب کر لیتی ہے۔ یوں ایک مخلوق کا اختتام دوسری کے لیے امکانِ حیات بن جاتا ہے۔ بظاہر یہ بقا کی ایک بے رحم کہانی ہے لیکن اس کے اندر توازن کا ایک ایسا اصول کارفرما ہے جس پر زندگی کی پوری عمارت کھڑی ہے۔
اس نظام کی سب سے اہم خصوصیت یہ نہیں کہ ہر جاندار دوسرے پر انحصار کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ کسی ایک کڑی کی غیر معمولی افزائش یا مکمل خاتمہ پورے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ فطرت میں توازن کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مخلوق برابر طاقتور ہو بلکہ یہ ہے کہ کسی ایک مخلوق کی طاقت اتنی غیر معمولی نہ ہو جائے کہ باقی مخلوقات کے وجود ہی کو خطرے میں ڈال دے۔
یہی اصول انسانی معاشروں، سیاسی نظاموں اور ریاستوں پر بھی کسی نہ کسی صورت لاگو ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فطرت میں توازن کا کام قدرتی عوامل کرتے ہیں جبکہ انسانی معاشروں میں اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے آئین، قانون، ادارے، سیاسی جماعتیں اور باشعور شہری درکار ہوتے ہیں۔ جہاں یہ عوامل موجود ہوں وہاں طاقت کو حدود میں رکھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے اور جہاں ان میں سے ایک ایک کرکے تمام رکاوٹیں ختم کر دی جائیں وہاں طاقت اپنی حدود متعین کرنے کا اختیار بھی خود ہی سنبھال لیتی ہے۔
تضادات زندگی کو حرکت دیتے ہیں۔ دنیا تضادات سے عبارت ہے۔ سیاہ اور سفید، سچ اور جھوٹ، عقل اور بے وقوفی،........
