Sarkari Hospital, Mareezon Ke Lawahiqeen Aur Adam Bardasht
سرکاری ہسپتال، مریضوں کے لواحقین اور عدم برداشت
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ہماری معیشت طویل عرصے سے اندرونی و بیرونی مالی وسائل کی مشکلات سے دوچار ہے۔ اس کے باوجود مختلف حکومتوں نے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں۔ لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وسائل، مہنگائی، طبی سہولیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور صحت کے نظام میں موجود انتظامی کمزوریوں نے سرکاری ہسپتالوں کے مسائل میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری طرف ہمارے معاشرے میں برداشت کا دامن بھی سکڑتا جا رہا ہے۔ معمولی اختلاف فوری تلخی، تلخی گالی، گالی دھمکی اور بعض اوقات دھمکی تشدد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سرکاری ہسپتال اس صورتِ حال کا شاید سب سے حساس میدان بن چکے ہیں۔
ایک طرف شدید بیمار مریض کے ساتھ پریشان حال خاندان ہوتا ہے، جسے اپنے پیارے کی زندگی کی فکر ہوتی ہے، دوسری طرف محدود وسائل، بے پناہ مریضوں کے دباؤ اور مسلسل کام کرنے والا طبی عملہ موجود ہوتا ہے۔ جب ان دونوں کے درمیان مؤثر رابطہ نہ ہو تو ایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیقی شواہد اس مسئلے کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں صحت کے شعبے میں workplace violence پر ہونے والے ایک مطالعے میں 53.4 فیصد طبی عملے نے کسی نہ کسی نوعیت کے تشدد یا بدسلوکی کا سامنا کرنے کی اطلاع دی، جبکہ ایک اور مطالعے میں نو بڑے tertiary-care اداروں کے 75 فیصد سے زائد ڈاکٹروں نے اپنے کیریئر کے دوران کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا سامنا کیا۔
ایک جامع systematic review، جس میں پاکستان کے 24 مطالعات اور 16 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز کا ڈیٹا شامل تھا، نے بھی واضح کیا کہ طبی عملے کے خلاف زبانی تشدد سب سے عام شکل ہے اور مریضوں کے لواحقین اس تشدد کے نمایاں مرتکب پائے گئے۔
اس مسئلے کی وجوہات بھی محض "غصہ" نہیں۔
اوور کراؤڈنگ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔........
