Ujre Gulshan, Sogwar Hawa
اجڑے گلشن، سوگوار ہوا
پمز ہسپتال کا وہ روشن وارڈ جو ننھی مسکراہٹوں اور زندگی کی امیدوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا لمحوں میں آہ و بکا اور گہرے ماتم کی تاریک گلی میں تبدیل ہوگیا معصوم بچوں کی سانسیں بچانے والے آلات کی بے حسی اور انتظامیہ کی مجرمانہ لاپروائی نے چودہ خاندانوں کے چراغ گل کر دئیے جن کی روشنیاں ان کے ماں باپ کی آنکھوں میں بستی تھیں جن آکسیجن سلنڈروں کو زندگی کی روانی بحال کرنا تھی وہی اچانک ناکارہ ہو گئے اور دم توڑتے بچوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہوا میں مدد کے لیے تڑپتے رہے لیکن نظام کی مردہ دلی کے باعث کوئی مسیحا ان کی التجا نہ سن سکا۔
ہسپتال کے گلتے سڑتے اور بظاہر جدید ترین نظام کا پول اس وقت کھلا جب لائف سپورٹ سسٹمز نے کام کرنا بند کر دیا اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا کوئی بیک آپ موجود ہی نہ تھا تکنیکی آلات کے باقاعدہ معائنے اور حفاظتی جانچ کو کاغذات کے پلندوں میں دفن کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک ایسا دردناک ہلاک خیز واقعہ جنم پایا جس نے پورے ملک کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا یہ محض کسی تکنیکی خرابی یا تقدیر کا کھیل نہیں تھا بلکہ سالہا سال سے پلنے والی اس انتظامی نااہلی کا حتمی نتیجہ تھا جو انسانی زندگیوں سے زیادہ دفتری کاغذی کارروائیوں کو اہمیت دیتی ہے۔
جب اقتدار اور انتظامی سائے میں بیٹھے لوگ چھوٹے حادثات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے........
