Junoon e Hindutva
بھارت کی جانب سے حالیہ دنوں میں سرحدوں پر غیر معمولی عسکری نقل و حرکت اور جنگی جنون پر مبنی پالیسیاں کسی گہری اور ہولناک سازش کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہیں لائن آف کنٹرول سے لے کر بین الاقوامی سرحد تک بھاری بھرکم جنگی ساز و سامان کی منتقلی اور جدید ترین اسلحے کی خریداری کی تڑپ اس بات کی غماز ہے کہ دہلی کے ایوانوں میں امن کے چراغ بجھانے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی شیطانی چال ہے جس کا مقصد خطے کے استحکام کو تہہ و بالا کرنا اور اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر شب خون مارنا ہے۔ بھارت کا یہ توسیع پسندانہ عزائم سے لیس رویہ اس کی اس بدنیتی کو بے نقاب کر رہا ہے جہاں وہ سفارت کاری کے پردے میں بارود کی بو پھیلا رہا ہے۔ اسلحے کے انبار اور جارحانہ پوزیشننگ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہندوتوا کے علمبرداروں نے انسانی جانوں کی قیمت پر اپنی انا کی تسکین کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سرحدوں پر بڑھتی ہوئی یہ تپش اور جنگی طیاروں کی گھن گرج کسی بڑے طوفان کا پتہ دے رہی ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو نگل سکتا ہے بلکہ عالمی توازن کو بھی بگاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی خاموشی اور بھارت کی یہ پراسرار خاموش جنگی تیاری اس کے مکروہ چہرے کو مزید واضح کر رہی ہے جس کا واحد ہدف معصوم انسانی جانوں کا زیاں اور خطے میں اپنی نام نہاد بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایسی چالیں........
