Universityon Ki Visiting Faculty: Sab Se Zaroori, Sab Se Arzaan
یونیورسٹیوں کی وزیٹنگ فیکلٹی: سب سے ضروری، سب سے ارزاں
یونیورسٹی کی لغت میں "وزیٹنگ" اعزاز کا لفظ ہے۔ بلایا اسی کو جاتا ہے جس کے بغیر کام نہ چلے اور مہمان اسی کو کہتے ہیں جو ہر روز میسر نہ ہو۔ ناگزیر ہونا اور کم یاب ہونا، انھی دو شرطوں سے اس لفظ کو معنی ملتے ہیں۔ جو مدیر تیس برس خبر کی میز پر بیٹھا رہا ہو، یا جو وکیل مقدمات کے بیچ سے ہفتے میں ایک شام چرا کر لائے، وہ کلاس میں وہ چیز لاتا ہے جو کسی کتاب میں نہیں ملتی: فیصلے کی گھڑی کا وزن، دلیل کے ٹوٹنے کی آواز اور پیشے کی وہ سچائیاں جو برسوں کی ٹھوکروں سے ملتی ہیں۔ ایسے شخص کا ایک لیکچر طالب علم کو عمر بھر یاد رہتا ہے۔ وہ علم کو کتاب کے صفحے سے اٹھا کر زندگی کے میدان میں لا کھڑا کرتا ہے۔
مگر ہم نے اس لفظ کے ساتھ ایک عجیب کام کیا۔ لفظ رکھ لیا اور اس کا مفہوم الٹ دیا۔ بہت سے شعبوں میں اب وزیٹنگ وہ ہے جو ہر وقت دستیاب ہے، کیونکہ وہ دو برس پہلے اسی کمرے میں طالب علم تھا۔ پڑھانے والا اسی شعبے کا فارغ التحصیل ہے، جس نے کبھی پڑھایا نہیں اور اکثر اس میدان میں کام بھی نہیں کیا جس کا علم بانٹنے کھڑا ہے۔ مہمان وہ ہوتا ہے جو باہر سے آئے۔ یہاں گھر کے لڑکے کو مہمان کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں نے اپنی ساختی سست روی اور مالیاتی بچت کی دھن میں علم کے کارگاہ کو ایک دیہاڑی دار بازار میں بدل دیا ہے، جہاں نام اعلیٰ درجے کا رکھا گیا ہے اور کام کم ترین قیمت پر خریدا جا رہا ہے۔
اس لباس کا پہلا شکار وہ والدین اور طلبہ ہیں جنھیں اس کی خبر ہی نہیں۔ باپ جب سنتا ہے کہ فلاں مضمون وزیٹنگ فیکلٹی پڑھاتی ہے تو اس کے ذہن میں وہی ماہر ابھرتا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ لفظ ایک وعدہ ہے اور اعتماد اور فیس دونوں اسی وعدے کے سہارے آتے ہیں۔ جب لفظ وہی رہے اور اس کے پیچھے کی چیز بدل جائے تو اسے غلط فہمی کہنا رعایت ہے۔ اس کا درست نام دھوکا ہے اور یہ دھوکا اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ شکار کے پاس اسے پرکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ طالب علم سمجھتے ہیں کہ وہ کسی آزمودہ کار کی صحبت سے فیض اٹھا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں انھیں ایک ایسے نا تجربہ کار کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو خود ابھی اپنے وجود کی تلاش میں ہے۔
دوسرا شکار وہ حقیقی ماہر ہے جسے کبھی معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کہیں ایک نشست خالی تھی۔ اس کا نقصان کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ تیسرا شکار پورا شعبہ ہے، کیونکہ جس کلاس تک پیشے کی آواز نہ پہنچے، وہ رفتہ رفتہ کتاب کی چار دیواری میں قید ہو جاتی ہے اور چوتھا شکار خود علم کی تحقیق اور اس کا وہ تسلسل ہے جس پر کسی جامعہ کا وقار قائم ہوتا ہے۔
یہ انتخاب ہوتا کیسے ہے؟ بہت سے شعبوں میں سربراہ کے ذہن میں ایک غیر تحریری فہرست ہوتی ہے: وہ طالب علم جو ادب سے........
