menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Changez Khan Khoon Asham Fateh Ya Ghair Mamooli Hukmaran

16 0
22.05.2026

چنگیز خان خون آشام فاتح یا غیر معمولی حکمران

تاریخِ عالم میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جن کے نام سنتے ہی انسانی ذہن خوف، حیرت اور تباہی کی تصویریں بنانے لگتا ہے۔۔ انہی ناموں میں ایک نام چنگیز خان کا بھی ہے، جس نے نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ کے بڑے حصے کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے لرزا دیا۔ اس کی تلوار نے سلطنتیں مٹا دیں، شہروں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور انسانی کھوپڑیوں کے مینار تاریخ کا ہولناک باب بن گئے۔ مگر چنگیز خان کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی جنگیں جان لینا کافی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود منگول قبائل کی زندگی، رسومات، عادات اور عقائد کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

منگول قبائل وسطی ایشیا کے وسیع میدانوں میں آباد خانہ بدوش لوگ تھے۔ ان کی زندگی گھوڑوں، شکار، جنگ اور سخت موسمی حالات کے گرد گھومتی تھی۔ بچپن ہی سے بچوں کو گھڑسواری، تیر اندازی اور شکار کی تربیت دی جاتی تھی۔ منگول معاشرے میں طاقت اور بہادری سب سے بڑی خوبی سمجھی جاتی تھی۔ عورتیں بھی غیر معمولی طور پر مضبوط اور خود مختار تھیں۔ وہ گھروں کے انتظام سے لے کر جنگی مہمات میں معاونت تک اہم کردار ادا کرتی تھیں۔

منگولوں کی رہائش عارضی خیموں پر مشتمل ہوتی تھی جنہیں "یورت" کہا جاتا تھا۔ یہ خیمے اس انداز سے بنائے جاتے کہ سردیوں کی برفانی ہواؤں اور گرمیوں کی تپش دونوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ان کی خوراک زیادہ تر گوشت، دودھ، خشک پنیر اور گھوڑی کے دودھ سے تیار کردہ مشروب "قومس" پر مشتمل ہوتی تھی۔ یہ لوگ خشک گوشت کے پارچہ جات بنا کر رکھ لیتے تھے اور اسی طرح گھوڑی کے دودھ کی بنی لسی کو بھی سائے میں خشک کرکے اپنی خرجین میں رکھ لیتے تھے پھر جدھر پیاس محسوس ہوتی تو ایک ڈلی کو پانی میں ڈال کر پی لیتے۔ یہ چیز ان کو صحرا کی گرمی کی شدت سے محفوظ رکھتی تھی۔

بعض تاریخی روایات کے مطابق منگول سپاہی کئی کئی دن مسلسل سفر کرتے اور ضرورت پڑنے پر گھوڑے کی رگ سے تھوڑا سا خون نکال کر پی لیتے تاکہ طاقت برقرار رہے۔ منگول قبائل کے عقائد بھی منفرد تھے۔ وہ "تینگری ازم" نامی عقیدے پر یقین رکھتے تھے، جس میں آسمان کو مقدس طاقت سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک نیلا آسمان یعنی "جاوادانی آسمان" سب سے بڑی قوت تھا۔ شمن یا روحانی پیشوا قبیلوں میں خاص مقام رکھتے تھے، جو بیماریوں، جنگوں اور مستقبل کے فیصلوں کے لیے روحانی رہنمائی دیتے تھے۔ منگول لوگ........

© Daily Urdu (Blogs)