Shehrag Ka Khoon Aur Iqtidar Ka Jashan
شہہ رگ کا خون اور اقتدار کا جشن
قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے بار بار نہیں آتے جب سیاست کو ایک قدم پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور انسانیت کو آگے آنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے خطے کی سیاست نے ہمیشہ اس کے برعکس راستہ اختیار کیا ہے یہاں جتنا بڑا سانحہ ہوتا ہے اتنا ہی بلند اقتدار کا شور سنائی دیتا ہے۔ لاشیں ابھی دفن بھی نہیں ہوتیں کہ انتخابی حکمتِ عملیاں تیار ہونے لگتی ہیں زخم ابھی تازہ ہوتے ہیں کہ سیاسی نعروں کی گونج انہیں ڈھانپنے کی کوشش کرتی ہے۔
ہم نے برسوں تک کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کہا یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک قومی مؤقف تھا لیکن الفاظ کی اصل آزمائش تقریروں میں نہیں مشکل وقت میں ہوتی ہے اگر کشمیر واقعی شہہ رگ ہے تو پھر اس کے زخموں سے بہنے والا خون پورے جسم کو بے چین کرنا چاہیے، اگر شہہ رگ درد میں ہو تو جشن نہیں منایا جاتا سب سے پہلے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔
گزشتہ دو ماہ سے راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں جو حالات پیدا ہوئے انہوں نے کئی تلخ سوالات کھڑے کر دیے ہیں عوامی احتجاج، کشیدگی جانوں کے ضیاع اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کی گرفتاریوں یا حراست سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات نے فضا کو مزید بوجھل بنا دیا ہے۔ گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہے ماؤں کی آنکھیں اپنے بیٹوں کو ڈھونڈ رہی ہیں بچے اپنے باپ کے انتظار میں دروازوں کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن سیاسی افق پر ایک اور منظر دکھائی دیتا ہے دو بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں جلسے ہو رہے ہیں نعرے لگ رہے ہیں۔
گویا زمین پر کوئی سانحہ برپا ہی نہ ہوا ہو پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں الیکشن مخں مصروف اسقدر ہیں کہ انہیں کشمیریوں کا بہتا لہو نظر نہیں آرہا ہے یا یہ جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں کتنی ستم ظریفی ہے کتنی حماقت ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اپنی........
