menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kahani Pardesiyon Ki (2)

23 0
10.05.2026

کہانی پردیسیوں کی (2)

پردیس انسان کو صرف اپنوں سے دور نہیں کرتا یہ آہستہ آہستہ انسان کو خود اُس کی ذات سے بھی اجنبی بنا دیتا ہے شروع شروع میں پردیسی ہر رات گھر فون کرتا ہے ماں کی آواز سنتے ہی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بچوں کی باتوں پر چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے بیوی کی خاموشی میں بھی محبت محسوس ہوتی ہے مگر پھر وقت گزرتا ہے کام کے اوقات بڑھتے جاتے ہیں تھکن ہڈیوں میں اترتی جاتی ہے اور باتوں کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب فون صرف ضرورت بن جاتا ہے محبت نہیں۔

پردیس کی سب سے بڑی اذیت شاید یہی ہے کہ یہ انسان کے احساسات کو آہستہ آہستہ پتھر بنا دیتا ہے وہ شخص جو کبھی چھوٹی سی بات پر ہنس دیتا تھا اب مہینوں مسکرانا بھول جاتا ہے جو کبھی اپنے بچوں کے بغیر ایک دن نہیں گزار سکتا تھا اب برسوں ان کے بچپن سے دور رہتا........

© Daily Urdu (Blogs)