menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jamhuriat Aayi Magar Mukammal Ikhtiyar Ke Sath Nahi

35 0
05.10.2026

جمہوریت آئی مگر مکمل اختیار کے ساتھ نہیں

مذاکرات کی کشتی کا چپو ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے کشتی بیچ منجدھار میں کھڑی ہے، ساحل دونوں طرف دکھائی دے رہے ہیں مگر ملاح کے ہاتھ خالی ہیں اب یہ کشتی کس طرف جائے گی کس کنارے لگے گی اور کہیں طوفان اسے اپنے ساتھ بہا نہ لے جائے یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کا انجام بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی پرانے ابواب کی طرح ہوا کئی گھنٹوں کی نشستیں کئی ادوار کے مذاکرات مسودے کی تیاری، ترامیم، مشاورت اور پھر وہی سوا فیصلہ کرے گا کون؟ تازہ مذاکرات میں بنیادی اختلافات میں عمران خان تک رسائی اور ان کے طبی علاج کے معاملات بھی شامل رہے۔ رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ ملاقات اور علاج جیسے بنیادی معاملات کو محض زبانی یقین دہانی کے بجائے تحریری معاہدے کا حصہ بنایا جائے، جبکہ حکومت اس پر مکمل اتفاق نہ کر سکی۔

یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے حکومت کے مذاکراتی وفد کے پاس اگر اتنے اختیارات ہی نہیں تھے کہ وہ فیصلہ کر سکے تو پھر اسے مذاکرات کی میز پر بھیجا ہی کیوں گیا مذاکرات اگر فیصلے کا نام ہے تو مذاکرات کرنے والوں کے پاس اختیارِ فیصلہ بھی ہونا چاہیے اگر ہر جملے کے بعد فون کرنا پڑے ہر نکتے پر اوپر سے اجازت لینا پڑے اور ہر مسودہ کسی اور دروازے پر منظوری کے لیے لے جانا پڑے تو پھر مذاکرات نہیں ہوتے صرف وقت گزاری ہوتی ہے اور جب مذاکراتی ٹیم مسودہ لے کر کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر بھاگتی دکھائی دے تو عوام کے ذہن میں ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اصل اختیار آخر کس کے پاس ہے یہ سوال آج کا نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ہمارے سیاسی سفر کا حصہ بن گیا تھا۔

1947ء میں پاکستان ایک جمہوری خواب کے ساتھ وجود میں آیا قائداعظم نے ریاستی اداروں کے کردار کی جو تصویر پیش کی اس میں منتخب نمائندے پالیسی بناتے پارلیمان قانون سازی کرتی اور ریاست کے تمام ادارے آئین کے تابع رہتے مگر قائداعظم کی وفات کے بعد سیاسی نظام ابھی اپنے قدموں پر کھڑا بھی نہ ہو پایا تھا کہ طاقت کے مراکز کی کشمکش شروع ہوگئی۔ 1954ء میں دستور ساز اسمبلی توڑ دی گئی معاملہ عدالت پہنچا اور عدالتی فیصلے نے ایسا راستہ کھولا جس نے آنے والی دہائیوں میں ریاستی طاقت کے استعمال کو ایک خطرناک جواز فراہم کی پھر 1958ء آی آئین معطل ہوا اسمبلیاں ختم ہوئیں اور پاکستان نے اپنا پہلا مارشل لا دیکھا یوں جمہوریت کی عمارت ابھی مکمل تعمیر بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی بنیادوں پر طاقت کے بوٹوں کے نشان پڑ گئےایوب خان کا دور آیاپھر یحییٰ خان آئے پھر 1971ء کا سانحہ ہوا ملک ٹوٹ گیا۔

یہ صرف جغرافیہ نہیں ٹوٹا تھا یہ اس تصور کو بھی شدید دھچکا تھا کہ طاقت کے ذریعے سیاست کو قابو کیا جا سکتا ہے۔

1973ء کا آئین پاکستان کے سیاسی سفر........

© Daily Urdu (Blogs)