Ghq Hamla Case
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی نشیب و فراز آئے، احتجاج بھی ہوئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں، حکومتیں بھی بدلتی رہیں، مگر 9 مئی 2023 کا دن ایک ایسا سیاہ ترین دن تھا جس نے ملکی سیاست کے چہرے پر ایک ایسا داغ لگا دیا جسے شاید طویل عرصہ تک دھویا نہ جا سکے۔ اس روز ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، مگر سب سے حیران کن اور افسوسناک واقعہ وہ تھا جب مشتعل ہجوم نےایک پلاننگ کے تحت ملک کے معتبر ادارے فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز یعنی جی ایچ کیو کے گیٹ پر دھاوا بول دیا۔
یہ واقعہ صرف ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ ریاستی نظم و ضبط اور اداروں کے احترام کے حوالے سے ایک سنگین سوال بھی تھا۔
حال ہی میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اس کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو دس دس سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان میں پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنما بھی شامل ہیں جن میں عمر ایوب خان، مراد سعید، ذلفی بخاری، زرتاج گل، شبلی فراز، حماد اظہر اور دیگر شامل ہیں۔
عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ یہ ملزمان نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور پرتشدد احتجاج کی سازش میں ملوث پائے گئے۔
نو مئی کا پس منظر، 9 مئی 2023 کو اس وقت حالات نے سنگین رخ اختیار کیا جب عمران خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک مقدمے میں گرفتار کیا۔ اس گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔
سرکاری عمارتیں، یادگاریں اور نجی املاک نقصان کا شکار ہوئیں۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر........
