menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Abna e Hormuz Ward, Donald Trump Aur Alam Lohar

27 0
18.03.2026

آبنائے ہرمز وارڈ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار

عالمی سیاست میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ بھی کچھ اس انداز میں بات کرتا نظر آتا ہے جیسے محلے کا وہ لڑکا جو اپنے دوستوں کو کھیل میں شریک کرنے کے لیے پہلے منتیں کرتا ہے اور جب کوئی نہ مانے تو کہتا ہے: "اگر تم نہیں کھیلو گے تو میں بھی کھیل بند کر دوں گا!" حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے بارے میں دیا گیا بیان کچھ اسی نوعیت کا محسوس ہوتا ہے اور ٹرمپ صاحب نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اس اہم سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

بظاہر یہ بیان ایک بڑی عالمی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے چھپی بے بسی اور عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے توازن کی جھلک بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ کی بے بسی پر فوک سنگر عالم لوہار اور ڈونلڈٹرمپ میں ایک قدر مشترک نظر آرہی ہے، جس پر آگے چل کربات کرتے ہیں پہلے آبنائے ہرمز پر بات کرلیں۔۔ کیونکہ سیاق و سباق کو سمجھ کر آپ ذیادہ انجوائے کریں گے۔۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا بیشتر تیل اسی راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی معیشت کا تیل بھی بند ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہر دور میں بڑی طاقتیں اس خطے پر نظر رکھتی آئی ہیں۔ مگر اس بار معاملہ کچھ مختلف ہے۔

امریکا نے اپنے اتحادیوں سے کہا کہ وہ اپنے جنگی جہاز اس علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ نام بھی بڑے بڑے تھے: جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک سے امریکا کو فوری "جی حضور" کی امید تھی، وہاں سے جواب کچھ اس قسم کا آیا جیسے شادی میں کسی کو اچانک ڈانس کے لیے کہا جائے اور وہ فوراً کہہ دے: "ہم صرف دیکھنے آئے ہیں، ناچنے نہیں!"

اطلاعات کے مطابق فرانس، برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے اس معاملے میں کھل کر ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے یا کم از کم ایسا کوئی اعلان نہیں کیا جس سے ٹرمپ کی خواہش پوری ہوتی نظر آئے۔ گویا امریکا نے ڈھول بجایا مگر جلوس میں لوگ کم نکلے۔

یہ صورتحال امریکی صدر کے لیے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہوگی۔ کیونکہ برسوں تک دنیا یہ دیکھتی آئی ہے کہ امریکا جب بھی کوئی آواز لگاتا تھا تو کئی ممالک فوراً صف میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن اب منظر بدلتا دکھائی دے........

© Daily Urdu (Blogs)