menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hospitals Ki Mojuda Halat

28 0
16.02.2026

ہسپتالوں کی موجود حالت

میں نے اپنے پچھلے کالم میں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی اور لیبارٹری ٹیسٹوں سمیت ایکسرے رپورٹس سے متعلق مسائل پر بات کی تھی کہ اسی دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے مختلف ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ، پرنسپلز اور وائس چانسلر حضرات سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور ساتھ ہی اڑھائی کروڑ روپے کی انسولین کی چوری کی خبر بھی دی ہے۔

افسوس کے ساتھ ہسپتالوں میں موجود مختلف مافیاز کا ذکر کیا جو عام مریض کے علاج کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور ساتھ ہی ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی قطاروں کا ذکر بھی کیا اور دکھتے دل کے ساتھ اظہار کیا کہ صحت کا بجٹ تین سو ننانوے ارب سے بڑھا کر چھ سو تیس ارب روپے کرنے کے باوجود مفت ادویات اور مفت علاج کے مقاصد پورے نہ ہو سکنا مایوس کن ہے۔

وزیر اعلیٰ کی اس تقریر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن میں سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر اڑھائی کروڑ روپے کی انسولین چوری کا سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ کو علم ہے تو پھر کیا اس معاملہ کی تحقیقات ہوئیں اور ذمہ داران کو سزا ملی اور اگر سزا نہ دینے کی بجائے صوبے کے ایم ترین عہدیداران صرف شکایات تک ہی محدود رہے ہیں تو یقین جانئیے یہ بھی ایک بڑا جرم ہے کیونکہ جب سرکاری افسران کو سزا نہیں ملتی ہے تو ان کا سینہ مزید چوڑا ہو جاتا ہے اور وہ اور بھی بڑے ڈاکے مارتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مفت ادویات کی فراہمی کے اندر سے مریضوں کو کچھ ملے نہ ملے لیکن بہت سارے لوگوں کی دیہاڑیاں خوب لگتی ہیں جہاں ادویات پر کمیشن، ادویات پیمنٹ کے بیجوں پر کہ بیک بھی وصول ہوتے ہیں اور ادویات مریض کو لکھنے پر کمپنیوں سے پیسے لینے کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن سرکاری ادویات کی خریداری کر جو غدر مچتا ہے اس کے بارے میں الگ سے کالم لکھا جا سکتا ہے۔

ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ نوازشات کے لئے کم مدت کی ایکسپائری ادویات بھی خرید لی جاتی ہیں جن کو بعد میں چوری کروا کر کنزیوم کروایا جاتا ہے۔ میں نے کوٹ خواجہ سعید ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو ایک بار رابطہ کرکے بتایا تھا کہ ان کے ہسپتال کی ادویات چوری ہورہی ہیں اور مہنگے جان بچانے والے ٹیکے، اینٹی بائیوٹک گولیاں اور یہاں تک کہ انسولین کی بوتلیں مارکیٹ میں بک رہی ہیں اور ایک شخص ملازمین سے سرکاری ادویات خرید کر مارکیٹ میں بیچ کر اپنا کاروبار چمکا رہا ہے لیکن اس اطلاع کے باوجود آج تک ادویات کی چوری کا مکروہ دہندہ چل رہا ہے اور اس ہسپتال میں تمام اہم شعبہ جات بغیر ڈاکٹروں کے کام کررہے ہیں اور یورولوجی، آرتھو پیڈک، ناک کان گلا کے شعبہ جات جہاں روزانہ سینکٹروں مریض آتے تھے وہاں اب کوئی ڈاکٹر ہی موجود........

© Daily Urdu (Blogs)