menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khota Sikka

29 0
09.05.2026

جہاں آرا نقوی بڑی ترنگ و امنگ کے ساتھ اپنے گھٹنوں کے درد کو بھلائے حیدری مارکیٹ کے چکر پر چکر لگا رہی تھیں۔ خوشیاں بھی تو ٹانک ہی ہوتی ہیں ناں۔ سو وہ بھی آنے والے پوتے کی خوشیوں سے سرشار، سارے درد کو دیوار سے لگائے ہنستی، گنگناتی، نہالچہ اور کرتے کی تیاریوں میں مگن تھیں۔

شبّیر نقوی اپنی ریٹائرمنٹ کا چوتھا سال اپنے ازلی منصوبے کے مطابق زیادہ سے زیادہ وقت پوری یکسوئی و خوش دلی کے ساتھ تیموریہ لائبریری یا پھر لیاقت نیشنل لائبریری میں گزارتے۔ ازل سے پڑھنے کے رسیا اور لکھنے کے شوقین نقوی صاحب اب اپنی برسوں کی پیاس کو سیراب کر رہے تھے۔ متوسط طبقے کے خواب اکثر پیٹ کی آگ کے آگے ہی خاکستر ہوتے ہیں۔ زندگی کے تقاضے نبھانے کی خاطر نقوی صاحب کا چلن ہمیشہ، ایک سے زیادہ نوکری رہی، پر کیا کیا جائے کہ وہی ازلی چادر کی بیچارگی و بوسیدگی کہ سرا اور پیر کی رسہ کشی برابر جاری رہی۔ اس کے باوجود دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پرورش و تعلیم اور ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنی چھت، یقیناً ایک بڑا کارنامہ تھا۔

این ای ڈی سے فارغ التحصیل بیٹا فیضان مزید تعلیم کے لیے فل برائیٹ اسکالرشپ پر ٹیکساس اسٹیٹ یونیورسٹی گیا تو وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ جانے کیسی گرم ہوا چلی کہ پرائے دیس گئے بچے اب واپس وطن لوٹتے ہی نہیں۔ کل ہی تو یہ خبر نظروں سے گزری کہ گزشتہ برس سات لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں نے ترکِ وطن کیا۔ ماؤں کی آنکھوں میں انتظار اور لوٹتے قدموں کی کن سوئیاں لیتی دہلیز دونوں ہی دم سادھے جانے والوں کے منتظر۔ یکے بعد دیگرے دونوں بیٹیاں بھی پردیسن ہوئیں۔ ایک کو آب و دانہ نیویارک، کوئنس لے گیا تو دوسری کو دبئی کا صحرا راس آیا۔ نارتھ کراچی 11/C میں ایک سو بیس گز پر بڑی کٹھنائیوں اور چاہ سے بنائی گئی دو منزلہ "شبیر منزل" اب بھائیں بھائیں کرتی ہے۔ صبر کو یہی کافی کہ تینوں بچے اپنی اپنی گھرگرہستی میں خوش و باش ہیں۔ ابھی تو یوں بھی وہ اور بیگم، ایک دوسرے کو راس۔

فیضان کے گھر چار سال بعد خوشیوں نے پھر دستک دی مگر پیچیدگیوں کے باعث ڈاکٹر نے رضنیہ کو شدید احتیاط بتائی تھی۔ فیضان نے ماں باپ کو ڈیلاس بلوانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ "اس" کا "کن" تھا سو سارے معاملات بنا کسی رخنے، سہولت سے طے ہوتے چلے گئے۔ ڈیلاس میں لمبا قیام نہیں، فقط چھ ماہ ہی کا بسرام تھا۔ ویسے بھی جہان آرا کو اپنے گھر و وطن سے جدائی شاق تھی۔ چلو اچھا ہے کہ ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کچھ دن کراچی کی قہر برساتی........

© Daily Urdu (Blogs)