Birhan
میں نے ساتویں منزل پر واقع اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ آہستگی سے کھولا۔ گیلری میں مدہم روشنی تھی، کنسول پر رکھے پیالے میں گھر کی چابی رکھتے ہوئے میں نے گہری سانس لی۔ پیالے کے ساتھ ہی تھائی لینڈ سے لائی ہاتھی دانت کی طشتری میں چنبیلی اور رات کی رانی کے پھول مہک رہے تھے۔
سمن، میری بیوی خوشبوؤں کی شیدائی مگر ساتھ ہی شدت سے ماحول دوست بھی۔ یہ روم فریشنرز یا باتھ روم کی صفائی کے لیے بھی کیمیکلز کے استعمال کے سخت خلاف۔ میرے گھر میں کسی بھی قسم کا کوئی کیمیکل نہیں آتا۔ اس ظالم کا بس چلے تو مجھے بھی پرفیوم اور بالوں پر جیل استعمال نہ کرنے دے۔ میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور کہا، جانم گھر تمہاری راج دھانی ہے سو جو چاہے کرو مگر خدارا خاک سار کو بخش دو! اب میں عطر لگا کر تو دفتر جانے سے رہا! ویسے وہ بھی کون سے کیمیکل فری ہوں گے؟
ہماری خوابگاہ میں موتیے کی مدھر خوشبو رچی ہوئی تھی۔ میں نے بے خبر سوتی ہوئی سمن کو دیکھا۔ اسے دیکھ کر میرا جی دھک سے رہ گیا، یہ اتنی زرد اور کمزور کیوں؟
بے شک میں ہفتے بعد گھر لوٹا ہوں مگر ہم برابر اسکرین پر باتیں کرتے رہے ہیں، کل پرسو تک تو یہ ایسی زرد و نڈھال نہ تھی؟
پچھلے ماہ ہی ہم نے دھوم دھام سے شادی کی دسویں سالگرہ منائی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مطمئن ہیں۔ خوشی تو خیر........
