menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mila Ho Jaise Sadiyon Baad Koi

44 0
02.09.2026

ملا ہو جیسے صدیوں بعد کوئی

جب اپنی جنم بھومی اور مانوس مٹی سے دور جائیں تو پیروں تلے زمین ہمیشہ ہی کچھ اجنبی دکھائی دیتی ہے اور نگاہ دوڑائیں تو سر پر آسمان کا وہ حصہ بھی کچھ ناشناس ہی لگتا ہے۔ تیس طویل سال گزر گئے۔ قریبی رشتے منوں مٹی تلے جا سوئے۔ کچھ ہم ہاتھ جھاڑ کر لوٹ آئے اور کچھ اوروں نے صرف نظر کر لی لیکن لاہور کی فضا سے ایک ہی آواز آتی ہے۔۔

شبِ غم مجھ سے مل کر ایسے روئی ملا ہو جیسے صدیوں بعد کوئی

آج بھی کسی اداس شام کو میرے لباس کی الماری میں پاپا کے لٹکے ہوئے شلوار قمیض کو نرمی سے چھوتے ہوئے اس رشتے کی آفاقیت والدین کی ذہنی ہمیشگی کا احساس دلاتی ہے۔

پاکستان واپسی کیلئے میرا پہلا انتخاب ہمیشہ لاہور ہی رہا اور آج بھی ہے۔ آج بھی جہاز کے پہئیے جب لاہور کے ائیرپورٹ کی انس گرفتہ اور مانوس سرزمین کو چُھوتے ہیں تو گویا کوئی کانوں میں سرگوشی کرتا ہے کہ کل یہی گھر تھا۔

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے

اور شاید واپسی پر بھی مانوس فضائیں ایک ان کہا سوال ضرور پوچھتی ہیں۔ واپس جا رہے ہو لیکن بتاتے جانا کہ پھر کب لوٹ کر آؤ گے۔ آخری پڑاؤ کیلئے بھی کچھ انتخاب کر لیا یا ابھی سوچ رہے ہو۔ وقت ناوقت ہوا چاہتا ہے۔

اماں کی وفات کے چند ہی گھنٹوں بعد ابھی فجر کا ہی وقت تھا اور میں اپنے پُرانے گھر واپس چلا گیا۔ وہاں تنہائی بے کسی اور اداسی کا راج تھا۔ ابھی بھی کچھ سامان موجود تھا، سردیوں کی اداس خنکی اور دل گرفتہ تنہائی نے آگے بڑھ کر افسردگی سے خوش آمدید........

© Daily Urdu (Blogs)