menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mehman Ka Ikram Karen

48 0
07.09.2026

امریکہ آنے کی کئی دہائیوں کے بعد آج ہم ایک مرتبہ پھر ڈیٹرائیٹ، مشی گن میں موجود ہیں جہاں مجھے اسلامی تنظیم ISNA نے بطور مقرر مدعو کیا تھا۔ ہوٹل کی بیرونی لابی کی آرام دہ کرسیوں میں بیٹھے ہوئے ہمیں بائیں جانب پانچ یا چھ شیشے سی عمارتیں اتنی قریب دکھائی دے رہی ہیں گویا ہاتھ بڑھائیں تو چُھو لیں۔ اسی ہوٹل سے آدھ میل کے فاصلے پر ایک گرے ہاؤنڈ بس سٹاپ بھی ہے جسے پاکستان میں ڈیووو کا بس سٹاپ سمجھ لیجئیے۔ یہ وہی بس سٹاپ ہے جہاں آج سے کم و بیش اٹھائیس یا تیس سال پہلے شاید میں نے چند گھنٹے گزارے اور ایک بے یقینی کا سامنا کیا۔ دہائیوں بعد آج بالکل اسی بس سٹاپ کے چند ہی قدموں دور ایک بالکل مختلف زندگی میری منتظر ہے۔ اس بہتر ہوٹل کی بیرونی لابی کا ایک روشن دن اور چلتی ہوئی خوشگوار ہوا مجھے ماضی میں واپس لے گئی

اداس شام کی یادوں بھری سلگتی ہوا ہمیں پھر آج پرانے دیار لے آئی

1990 کی دہائی تھی اور میرا پہلا انٹرویو بوسٹن میڈیکل سینٹر میں ہوا۔ اس کے فوراََ بعد میں دوسرا انٹرویو دینے ہرلے میڈیکل سینٹر، یونیورسٹی آف مشی گن جا رہا تھا۔ بوسٹن سے فلنٹ، مشی گن کا شاید چودہ یا پندرہ گھنٹوں کا بس کا سفر تھا اور یہاں ڈیٹرائیٹ سے بس بھی بدلنی تھی۔ جب ڈیٹرائیٹ پہنچے تو بھوک سے بُری حالت تھی۔ کچھ پُوچھ تاچھ کی تو معلوم ہوا کہ کچھ آس پڑوس میں ایک عدد برگر کنگ ہے اور وہاں سے مچھلی کا سینڈوچ مل سکتا ہے۔

ڈیٹرائیٹ سینٹ کلئیر جھیل کے کنارے ہے۔ گلیشیر کے پگھلے ہوئے تازہ اور میٹھے پانی کی جھیل کے کنارے ہونے کی وجہ سے ڈیٹرائئٹ انتہائی شدید سرد موسم کیلئے مشہور ہے۔ اس وقت بھی برفیلی ہوا کے چلتے ہوئے جھکڑوں میں برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دکھائی دے رہے تھے۔ سوچ بچار کا وقت نہیں تھا اور سردی اور بھوک میں سے بھوک نے فتح پائی اور میں نے بس اسٹیشن سے برگر کنگ کی طرف پیدل چلنا شروع کیا۔ شدید ترین سردی میں گویا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوتا تھا اور میرا لباس اس شدید سردی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ آدھا راستہ طے کرکے واپس جانے کا سوچا لیکن واپسی کے معنی بھوک کی سرزمین میں واپسی کے تھے۔ چارو ناچار برگر کنگ پہنچے اور واپسی کا سفر ایک آدھ فش برگر کی ہمت اور اس کے بعد........

© Daily Urdu (Blogs)