menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Koi Khwab Tha Ke Bikhar Gaya To Khabar Hui

37 0
09.09.2026

کوئی خواب تھا کہ بکھر گیا تو خبر ہوئی

نوجوانی کے دور میں ہر پاکستانی نوجوان کی طرح ہم بھی اچھائی کرنے کی خواہش تو رکھتے تھے لیکن دین کی سمجھ بوجھ کم ہی تھی اور صرف معاشرتی رویے ہی بتاتے تھے کہ درست یا غلط کیا ہے۔ گزرتے سالوں اور عمر کے ساتھ آنے والی دانش نے یہ سمجھایا کہ نہ تو ہر معاشرتی رویہ درست ہوتا ہے اور نہ ہی ہر اچھائی چھوٹی اور معمولی ہوتی ہے۔

لاہور جنرل اسپتال کے میڈیسن کے یونٹ ون میں حالات تو اتنے بُرے نہیں تھے لیکن انتہائی مفلس اور نادار لوگ آتے تھے۔ ایک دن میری ذمہ داری والے بستر پر ایک نوجوان بچی جو بمشکل اٹھارہ انیس برس کی تھی، وہ داخل ہوئی۔ اُس کی شادی کے دن تھے اور وہ چل پھر نہیں سکتی تھی۔ ایک آدھ ڈاکٹر صاحب نے تو فوراََ "فنکشنل" یعنی نفسیاتی مریض ہیں کا خطاب دیا۔ ایک کنسلٹنٹ نے البتہ بہت سنجیدگی سے معائنہ کیا اور کہنے لگے کہ میری رائے میں کوئی سنجیدہ طبی معاملہ لگتا ہے۔ اس زمانے میں سی ٹی اسکین بطور تبرک ہی استعمال کیا جاتا تھا لیکن میں نیورالوجی / نیوروسرجری کے وارڈ میں گیا۔ بھلے کچھ کوشش کی شاید کچھ منت سماجت بھی کی ہو۔ بچی کو spinal Myelogram کیلئے لے گئے، کچھ مسئلہ دکھائی دیا تو غالباََ سی ٹی اسکین کیا اور بچی نیوروسرجری میں شفٹ ہوگئی۔

آپریشن ہوا اور ہڈیوں کی ٹی بی نکلی۔ بچی صحت مند ہوئی اور ڈسچارج ہو کر گھر چلی گئی۔ میں بھی مریضوں اور زندگی میں مصروف ہوگیا ایک دن غالباََ راؤنڈ کے دوران ہی کا وقت تھا کہ اس بچی کے بوڑھے والد وارڈ میں دکھائی دئیے۔ مجھ سے بہت سرخوشی کے عالم میں ملے اور کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب اپنی مریض سے ملئیے۔ پتہ نہیں کہاں سے اور کس طرح بسوں میں دھکے کھاتے آئے لیکن وضع داری کا عالم دیکھئیے کہ صرف میرا شکریہ ادا کرنے آئی۔ یقین جانئیے آج بھی وہ منظر جیسے میری آنکھوں کے سامنے نقش ہے۔ نیلے گوٹے والے لباس میں بہت خوش و خرم بچی کو دیکھا جو اپنے پاؤں پر چل کر آئی۔ مسکراتی رہی اور خوشی چہرے سے عیاں........

© Daily Urdu (Blogs)