Urs e Mubarak Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed
عرسِ مبارک حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ
برصغیر پاک و ہند کی دھرتی صدیوں سے اولیاء اللہ، صوفیاء عظام اور سچے عاشقوں کا مسکن رہی ہے، جنہوں نے اپنے کردار، گفتار اور لازوال قربانیوں سے کفرستانِ ہند میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ انہی عظیم ہستیوں میں ایک درخشندہ ستارہ حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف دیوان چاولی مشائخ کی ذاتِ گرامی ہے، جن کا آستانہ عالیہ آج بھی لاکھوں دلوں کے لیے ہدایت اور روحانیت کا سرچشمہ ہے۔ بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ برصغیر کے ان عظیم تابعین میں شمار ہوتے ہیں جنہیں نواسہ رسول، سیدنا حضرت امام حسنؑ کے دستِ مبارک پر بیعت اور مریدی کا عظیم اور نادرِ روزگار روحانی شرف حاصل ہے۔
اگر تاریخی و خاندانی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو بابا صاحب کا نسبِ عالی براہِ راست سیدنا حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ سے ملتا ہے اور آپ اسی پاکیزہ ہاشمی لڑی کے امین ہیں۔ اس آستانے کی روحانی عظمت اور علمی مرتبت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں جہاں لعل شہباز قلندرؒ اور بابا فرید الدین گنج شکرؒ جیسی برگزیدہ ہستیوں نے حاضری دی، وہیں بابا گرو نانک کی بیٹھک بھی یہاں موجود ہے اور عظیم بزرگ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ نے بھی یہاں چلہ کشی فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ اس آستانے کی مٹی سے عقیدت، احترام اور بین المذاہب رواداری کی وہ خوشبو آتی ہے جو صدیوں کا طویل سفر طے کرنے کے بعد بھی مدہم نہیں پڑی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی خوشبو میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو یہ حقیقت کامل یقین کے ساتھ ثابت ہے کہ بابا صاحب کا عرسِ مبارک ہمیشہ 27 رمضان المبارک کو ہی ہوتا تھا، جو کہ بابا صاحب کی اصل تاریخِ شہادت بھی ہے۔ چونکہ تصوف کا اصل مقصد ہی انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، اس لیے اب سال میں دو عرس مبارک منعقد ہوتے ہیں۔ ایک عرس مبارک اسی مقدس مہینے یعنی 27 رمضان المبارک کو پوری روایتی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ جب دور دراز کے علاقوں، شہروں اور دیہاتوں سے زائرین اور مہمانوں کی آمد میں بے پناہ اضافہ ہوا، تو درگاہ کے بزرگوں اور دانشوروں نے ایک گہرا اور دور اندیش فیصلہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ تپتی دھوپ، طویل سفر اور زائرین کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے رمضان المبارک کے روزوں، عبادات اور اس مقدس مہینے کے خصوصی تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے، تپتی........
