Sdey Teiman: Aalami Zameer Ka Janaza, Sach Par Taziyana Aur Hamara Farz
سدے تائیمان: عالمی ضمیر کا جنازہ، سچ پر تازیانہ اور امتِ مسلمہ کی غیرت کا امتحان
تاریخ کے صفحات جب بھی انسانی درندگی، ریاستی دہشت گردی، جبر اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی کے سیاہ ترین باب تحریر کریں گے، تو اسرائیل کے بدنام زمانہ حراستی مرکز "سدے تائیمان" کا نام ابلاغی تاریخ، انسانیت اور تاریخ عالم کی پیشانی پر ایک کبھی نہ مٹنے والا، خون آلود اور بدنما داغ بن کر ابھرے گا۔ یہ محض کوئی روایتی فوجی جیل، عارضی حراستی کیمپ یا عام قید خانہ نہیں ہے، بلکہ سچائی کا گلا گھونٹنے، انسانی وجود اور وقار کی دھجیاں اڑانے اور سچ بولنے والے صحافیوں اور کالم نگاروں کی روحوں کو زدوکوب کرنے کے لیے قائم کیا گیا ایک انتہائی منظم، بھیانک، تکنیکی اور سفاکانہ ٹارچر سیل ہے۔
سچائی کو اب زیادہ دیر تک تاریک کوٹھڑیوں، زنگ آلود لوہے کے پنجروں اور خون سے لت پت بستروں کے نیچے دفن نہیں رکھا جا سکتا۔ خود اسرائیل کی اندرونی انسانی حقوق کی معتبر تنظیم "بتسیلم" نے اپنی آنکھیں کھول دینے والی تاریخی اور تہلکہ خیز رپورٹ "ویلکم ٹو ہیل" میں اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالی شان دفاتر کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور صحافیوں کی تحویل و تحفظ کی عالمی کمیٹی (سی پی جے) نے دنیا کے سامنے وہ سفاکانہ اور روح فرسا حقائق رکھ دیے ہیں جنہیں سن کر کسی بھی صاحبِ دل انسان کا خون جم جاتا ہے۔ پندرہ سے زائد پیشہ ور، باجرأت صحافیوں اور پچاس کے قریب حراست سے آزاد ہونے والے مظلوم قیدیوں کے تفصیلی، تحریری، مستند اور آنکھوں دیکھے بیانات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اس صحرائی جہنم کے اندر انسانوں، قلم کاروں اور ابلاغی نمائندوں پر تشدد کی کون سی نئی اور بھیانک تاریخ رقم کی گئی ہے۔
الجزیرہ اور دیگر عربی و بین الاقوامی ابلاغی اداروں سے وابستہ صحافیوں سمیت دیگر قیدیوں نے جن ہولناک جزئیات کو بین الاقوامی ایوانوں میں بے نقاب کیا ہے، وہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے چارٹر........
