menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Laal, Jauhari Aur Masharti Naqadri

18 0
13.06.2026

لعل، جوہری اور معاشرتی ناقدری

انسانی معاشروں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب زوال کا شکار ہوتی ہے، تو اس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہاں مخلص، دیانتدار اور باصلاحیت لوگوں کی قدر ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارے اردگرد پھیلے دیہی، جاگیردارانہ اور کاروباری ماحول میں یہ منظر اب ایک مستقل روایت بن چکا ہے جہاں انسان کی غیرتِ نفس، اس کی قابلیت اور اس کے خون پسینے کو چند ٹکوں کے عوض خریدنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ مصلحت پسند طبقہ ہمیشہ ہنر مندوں کو مجبور رکھ کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔ اس سارے نظام کی اصل حقیقت اور بے حسی کو سمجھنے کے لیے لوک داستانوں میں بیان کردہ ایک قدیم اور سبق آموز حکایت ذہن کے پردے پر ابھرتی ہے، جو آج کے دور کے تلخ حقائق پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔

حکایت کچھ یوں ہے کہ ایک کمہار کو، جو گدھے چرایا کرتا تھا، کہیں سے ایک نایاب اور چمکتا ہوا لعل مل گیا۔ وہ بیچارہ مٹی کے برتن بنانے اور گدھوں پر لادنے والا ایک عام سا بندہ تھا، وہ اس قیمتی لعل کی اصل وقعت اور تاریخ سے بالکل ناواقف تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ کوئی عام سا چمکنے والا پتھر ہے، چلو خوبصورتی کے لیے اسے اپنے گدھے کے گلے میں باندھ دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ نایاب لعل کئی دنوں تک ایک گدھے کے گلے میں لٹکا رہا اور مٹی دھول میں اٹا رہا۔ کمہار اسے محض ایک چمکتا ہوا کھلونا سمجھ کر خوش ہوتا رہا۔

ایک دن وہاں سے ایک جوہری گزرا، جو مزاج کا جواری اور موقع پرست بھی تھا۔ اس کی نظر گدھے کے گلے میں چمکتے ہوئے اس لعل پر پڑی تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کوئی عام پتھر نہیں، بلکہ ایک ایسا قیمتی ہیرا ہے جس کی قیمت پوری بادشاہت کے برابر ہو سکتی ہے۔ جوہری کے دل میں لالچ آ گیا، اس نے سوچا کہ کمہار تو نادان ہے، کیوں نہ اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر یہ لعل مفت کے بھاؤ ہتھیا لیا جائے۔ اس نے کمہار سے........

© Daily Urdu (Blogs)