Masla Subon Ka Nahi, Hukumrani Ka Hai
مسئلہ صوبوں کا نہیں، حکمرانی کا ہے
پاکستان میں حکمرانی کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ کئی دہائیوں سے ہم اس پر بحث کر رہے ہیں، حکومتیں بدلتی رہی ہیں، سیاسی جماعتیں بدلتی رہیں، نعرے اور منشور بدلتے رہے، مگر عام آدمی کے لیے ریاستی نظام کی مشکلات بڑی حد تک وہی رہیں۔ آج بھی ایک شہری کو اپنے جائز کام کے لیے دفتر کے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں، سفارش تلاش کرنا پڑتی ہے یا پھر کسی ایسے شخص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اس کی فائل کو آگے بڑھا سکے۔
سوال یہ ہے کہ اگر مسئلہ اتنا پرانا ہے اور سب کو معلوم بھی ہے تو پھر اسے ختم کیوں نہیں کیا جا سکا؟
اصل خرابی شاید قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان کے نفاذ کی کمزوری ہے۔ ہمارے پاس محکمے ہیں، افسران ہیں، قواعد ہیں، عدالتیں ہیں اور احتساب کے ادارے بھی موجود ہیں، مگر جب اختیار کے ساتھ ذمہ داری اور جواب دہی نہ ہو تو مضبوط سے مضبوط نظام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک بڑی وجہ سیاسی مداخلت نظر آتی ہے۔ بھرتی سے لے کر تقرری اور ترقی تک اگر میرٹ کے بجائے تعلق، سفارش اور سیاسی وابستگی اہم ہو جائے تو ادارہ کیسے مضبوط رہ سکتا ہے؟ ایک نااہل شخص اگر صرف تعلق کی بنیاد پر کسی اہم عہدے تک پہنچ جائے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا، پورا ادارہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔
یہی صورتحال وقت کے ساتھ ہمارے کئی اداروں کو اندر سے کھوکھلا کرتی رہی۔ کہیں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں ہوئیں، کہیں ایسے افراد کو مستقل کیا گیا جن کی اصل اہلیت سوالیہ نشان تھی اور کہیں اداروں میں کام سے زیادہ گروپ بندی اور سیاسی وابستگی اہم بن گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سرکاری اداروں کا بوجھ بڑھتا گیا مگر کارکردگی اسی رفتار سے بہتر نہ ہو سکی۔
تعلیمی ادارے بھی اس مسئلے سے محفوظ نہیں رہے۔ جامعات، کالجوں اور دیگر اداروں میں اگر تقرریاں شفاف طریقے سے نہ ہوں تو اس کا اثر........
