menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chand Baatein Mir Anees Ke Baare Mein: Kuch Tazkira, Kuch Tafheem

44 0
28.06.2026

چند باتیں میر انیس کے بارے میں: کچھ تذکرہ، کچھ تفہیم

انیس، شاعروں کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ کچھ نامی گرامی، کچھ بس اوسط درجے کے۔ میر ضاحک، ہجو گو تھے۔ سودا کے ہم عصر تھے اور سودا کی ہجو کا نشانہ بھی۔ ان کے بیٹے میر حسن تھے۔ انھوں نے مثنوی میں نام کمایا۔ سحر البیان لکھ کر اردو شاعری کی تاریخ میں نمایاں جگہ حاصل کر لی۔

دہلی اجڑ رہی تھی۔ میر ضاحک، میر حسن کے ساتھ فیض آباد چلے آئے۔ لکھنؤ سے بھی گزرے اور لکھنؤ کی ہجو لکھ ڈالی۔ اسی لکھنؤ کی، جس میں کوئی نصف صدی بعد، انھی کے ایک پوتے نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالنا تھا۔

اس ہجو میں، لکھنؤ کی گلیوں کا تنگ تر کہا، جہاں ہوا نہیں گزرتی، بس خاک اڑتی ہے۔ ایک شعر میں تو حد کردی:

زبس کوفہ سے یہ شہر ہم عدد ہے اگر شیعہ کہیں نیک اس کو بد ہے

لکھنؤ کو کوفہ ہی کہہ دیا، حالاں کہ اسی لکھنؤ نے کوفے اور کوفیوں کو اردو مرثیے کے ذریعے، ایک مستقل ملامت کا نشانہ بنانا تھا۔ میر حسن نے کوفہ و لکھنو میں ابجدی مماثلت تلاش کی۔ دونوں کے عدد 111 ہیں۔

یہ ہجو، آصف الدولہ کے دل کا کانٹا بن گئی۔ آصف الدولہ کو لکھنؤ بہت عزیز تھا۔ ان کے والد شجاع الدولہ کو فیض آباد عزیز تھا۔

جب ان کا انتقال ہوا (1775ء) ہوا تو آصف الدولہ اپنی والدہ بہو بیگم سے ناراض ہوئے اور لکھنؤ چلے آئے۔ میر حسن نے ہجو میں مبالغہ کیاتھا، غلط بیانی نہیں کی تھی۔ تب لکھنؤ ایک نیا جنم لینے کے مرحلے میں تھا۔ ابھی وہ لکھنؤ نہیں بنا تھا، جس کا مرثیہ بعد میں عبدالحلیم شرر اور دیگر کو لکھنا تھا۔

خیر، فیض آباد میں میر ضاحک کی آل اولاد پلی پڑھی۔ میر حسن کے سب بیٹے شاعر ہوئے۔ ناموری، میر مستحسن خلیق کے حصے میں آئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا یہ شعر سن کر آتش نے اپنی غزل پھاڑ دی تھی۔

رشک آئنہ ہے، اس رشک قمر کا پہلو صاف ادھر سے نظر آتا ہے، ادھر کا پہلو

اس طرح کی باتیں مبالغہ آمیز ہوا کرتی ہیں۔ مقصد، اس شعر کی تعریف تھا۔

تاہم خلیق نے شہرت، غزل سے زیادہ مرثیے میں پائی۔ ان کے بھی تین بیٹے تھے۔ تینوں شاعر تھے۔ ان میں ایک میر ببر علی تھے۔ یہ خاندان مصحفی اور ناسخ سے مشورہ سخن کیا کرتا تھا۔

میر ببر علی، حزیں تخلص کرتے تھے۔ ناسخ نے مشورہ دیا کہ انیس تخلص مناسب رہے گا۔ اس طرح میر ببر علی رضوی، میر انیس ہوگئے۔ باقی دونوں بھائیوں کے تخلص بھی شاید، اسی رعایت سے رکھے گئے۔ انس اور مونس۔

لیکن بھائیوں ہی میں نہیں، پورے خاندان میں کوئی دوسرا انیس نہیں ہوا۔ پورے خاندان کیا، اردو کی پوری شعری روایت میں کوئی دوسرا انیس نہیں ہوا۔

دبیر سے، کئی لحاظ سے، ان کی ٹکرکے تھے، لکھنؤ کا ایک حصہ اگر انیس کے ساتھ تھا تو دوسرا حصہ دبیر کے ساتھ تھا۔ ایک طرف انیسیے، دوسری طرف دبیریے تھے۔ شیخ گوہر علی مشیر نے یوں ہی نہیں کہا تھا:

قصہ عمر کا ہے نہ جناب امیر کا بس جھگڑا رہ گیا ہے انیس و دبیر کا

مگر وقت انیس کے ساتھ تھا۔ دبیر ٹھہر سکا نہ دبیریے۔ سچ یہ ہے کہ وقت پہلے دن سے انیس کے ساتھ تھا۔

ایک خاندان کے سب مرد شاعر ہوں، سب کو یکساں ماحول، یکساں تعلیم، یکساں توجہ پھر کیا وجہ ہے اس میں امتیاز ایک پشت میں، صرف ایک کے حصے میں آیا۔ اس زمانے ہی میں نہیں، بعد میں بھی، بڑی حد تک غزل ہی مرکزی صنف رہی ہے۔

اس خاندان میں کوئی شاعر، غزل میں میر و غالب کیا، سودا و مصحفی بھی نہ بن سکا۔ البتہ کچھ یادگار غزلیں یا منتخب اشعار ضرور کہے (جیسے میر حسن کی: ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں۔ غزل میں وہ نام نہ کماسکے مگر دوسری اصناف میں تاریخ بنا ڈالی۔

میر ضاحک نے کسی حد تک ہجو میں، میر حسن نے مثنوی، جب کہ انیس نے مرثیے کو ایک ایسے مقام پر پہنچایا کہ ان اصناف کی پہچان، انھی کے نام سے ہونے لگی۔ انیس کے والد، خلیق بھی مرثیے کے اچھے اور غزل کے ٹھیک ٹھاک شاعر تھے، مگر شاعری میں، خاندانی مراتب کا نظام نہیں چلتا۔

اگر........

© Daily Urdu (Blogs)