School Band Magar Feesain Khuli
سکول بند مگر فیسیں کھلی
پنجاب حکومت نے گزشتہ روز اعلان کر دیا ہے کہ دس مارچ سے اکتیس مارچ تک پنجاب کے سکول بند رہیں گے۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے پٹرول مہنگا ہوگیا ہے، اس لیے ٹرانسپورٹ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کمال ہوشیاری سے یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی بھی ملک نے پٹرول قیمتیں بڑھانے میں پھرتی نہیں دکھائی جتنی یہاں سرمایہ داروں کی حکومت نے راتوں رات پچپن روپے بڑھا کر پھرتی دکھائی ہے۔
حکومت کے سکول بندش کے اعلان سے پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ تعلیم کا پہیہ دراصل پٹرول سے چلتا ہے۔ اگر پٹرول مہنگا ہو جائے تو کتابیں ازخود بند ہو جاتی ہیں اور بستے خود ہی کمرے میں رکھی کرسی پر لمبی تان کر آرام کرتے ہیں۔
پولے سے منہ سے سکول بند کرنے کے ساتھ ساتھ آن لائن کلاسز کا لولی پاپ بھی عوام کو دے دیا گیا ہے کہ گویا مسئلہ حل ہوگیا۔ بچے گھر بیٹھے پڑھیں گے، اساتذہ سکرین کے ذریعے تعلیم دیں گے اور نظامِ تعلیم ویسے ہی رواں دواں رہے گا جیسے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی گاڑی۔ سوال یہ کہ اگر سکول بند ہیں تو فیس کیوں برقرار ہے؟ اگر بچے سکول کی عمارت میں داخل ہی نہیں ہو رہے تو عمارت کے اخراجات کیوں والدین کے سر ڈالے جا رہے ہیں؟ اگر ٹرانسپورٹ استعمال نہیں ہو رہی تو ٹرانسپورٹ کے چارجز کس خوشی میں وصول کیے جائیں گے؟ افسوس کہ حکومت اپنے پیٹی بند بھائیوں یعنی سکول مافیا کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں روپے اینٹھنے سے روکنے کے لیے ایک لفظ تک نہیں بول سکی۔ شاید اس لیے کہ اسکا ووٹ........
