Bohran Aabna e Hormuz Aur Americi Sharait
بحران آبنائے ہرمز اور امریکی شرائط
نقشے پر کھینچی گئی لکیریں اور سمندری لہریں بعض اوقات کسی خطے کی تقدیر کا فیصلہ اس انداز میں کرتی ہیں کہ دنیا بھر کے دارالحکومت ان کے تابع ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ریاستوں کا عروج تاریخ میں ہمیشہ ان گزرگاہوں سے جڑا رہا ہے جہاں سے مال و زر کی نقل و حمل ہوتی تھی۔ قرونِ وسطیٰ کے قافلوں سے لے کر جدید دور کے بحری بیڑوں تک طاقت کا ترازو اسی کے پلڑے میں جھکتا رہا ہے جس کا کنٹرول تجارتی راستوں پر مضبوط رہا ہو۔ جدید اور مشینی دور میں جہاں صنعتوں کا پہیہ پٹرولیم اور گیس کی مرہونِ منت ہے، زمین کے ایک چھوٹے سے سمندری ٹکڑے نے پوری دنیا کی سانسیں روک رکھی ہیں۔ یہ ٹکڑا آبنائے ہرمز ہے، ایک ایسا جغرافیائی موڑ جہاں سیاست، جنگ اور معیشت کی لہریں آپس میں ٹکراتی ہیں اور جس کی خاموشی یا ہلچل سے عالمی منڈیوں میں زلزلے آجاتے ہیں۔
خلیج فارس کو خلیج عمان کے پانیوں سے جوڑنے والا یہ راستہ محض 167 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا سب سے تنگ دہانہ صرف 39 کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس کے ایک طرف ایران کی پہاڑی سرحدیں ہیں اور دوسری طرف عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات کا ساحل پھیلا ہوا ہے۔ بظاہر یہ پانی کا ایک عام سا راستہ نظر آتا ہے، لیکن عالمی توانائی کی دنیا میں اس کی حیثیت انسانی جسم میں دوڑنے والے خون جیسی ہے۔ دنیا بھر میں بحری جہازوں کے ذریعے سپلائی ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 25 فیصد روزانہ اسی تنگ راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ قطر کی مائع قدرتی گیس ایل این جی ہو یا کویت، سعودی عرب اور امارات کا ایندھن، یورپ اور ایشیا کی صنعتوں کو زندہ رکھنے کے لیے اس بحری گلیارے سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ معاشی اہمیت کے ساتھ ساتھ، یہ خطہ خوبصورت مرجان کی چٹانوں، ڈولفنز اور نایاب سمندری کچھووں کا مسکن بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی ماحولیاتی حساسیت بھی غیر معمولی ہے۔
اگرچہ یہ علاقہ صدیوں سے پرتگالیوں، صفویوں اور برطانوی........
