Jabr Ki Mukhtalif Suratein Aur Sheema Kirmani
جبر کی مختلف صورتیں اور شیما کرمانی
جبر عربی زبان کا لفظ ہے، گرامر کے قواعد کی رو سے اسم مذکر ہے۔ اردو میں معنی زبردستی، دباؤ اور ظلم کے ہیں۔ مردانہ، پدر شاہی، پدرسری، جاگیردارانہ معاشرے میں یہ لفظ واقعی زیادتی، دباؤ، جفا اور ستم کی مکمل تفسیر بن گیا ہے۔ گھریلو معاملات میں جبر، تعلیم کے حصول میں جبر، کاروبار میں جبر، سیاست میں جبر اور اب فنکاروں و قلم کاروں پر بھی جبر کی صورت سامنے آگئی ہے۔
اس برس اگست میں عمر عزیز کے چالیس برس مکمل ہو جائیں گے۔ دس برس کی عمر میں اخبار پڑھ کر دادا کو سنانا شروع کیا تھا، کیونکہ دادا کی آنکھوں کا آپریشن ہوا تھا، اخبار بینی کی عادت ایسی پختہ ہوئی کہ ابھی تک جاری ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے چار اقسام کی خبروں نے ہمیشہ بے چین رکھا۔
لڑکی گھر سے بھاگ گئی۔ یہ سوال سب سے پوچھا کہ لڑکا بھی تو بھاگا، اکیلی تو نہیں بھاگتی۔ لیکن ساری لعن طعن لڑکی کو۔ آخر کیوں؟
وقت کے ساتھ خدا خدا کرکے بھاگنے کی وجوہات پر بات ہونا شروع ہوئی۔
دوسری خبر بہو کو جلا دینا، مار دینا، سوال یہ ہے کہ شوہر جو اس کو سسرال میں لانے کا باعث ہے وہ اس وقت کہاں تھا؟
اس پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھانا شروع کی تو کمی آئی ہے۔ ختم بالکل نہیں ہوا ہے، جبر کی دوسری صورتیں رائج ہو........
