Muharram Ul Haram Aur Shahadat e Farooq e Azam
محرم الحرام اور شہادتِ فاروقِ اعظمؓ
اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ نئے ہجری سال کی شروعات، مسلمانوں کے لیے خود احتسابی، تجدیدِ عہد اور تاریخِ اسلام کے سنہری ابواب سے سبق حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ محرم الحرام ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی حرمت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید میں ان مہینوں کا ذکر احترام کے ساتھ کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی حرمت برقرار رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات ذہنوں میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں ان عظیم شخصیات کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے کردار، قربانی، ایثار اور عدل سے انسانیت کے لیے ایسے نقوش چھوڑے جو قیامت تک مٹ نہیں سکتے۔ انہی عظیم ہستیوں میں خلیفۂ دوم، امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کا نام نمایاں ہے جن کی زندگی قیادت، انصاف، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا ایک روشن مینار ہے۔
یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ آپؓ پر قاتلانہ حملہ ذوالحج کے آخری ایام میں ہوا اور چند روز بعد آپؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، لیکن اسلامی سال کا آغاز ہوتے ہی امت مسلمہ اس عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جس نے اپنے دورِ خلافت میں دنیا کو حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل دیا جس کی مثال آج بھی پیش کی جاتی ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت اسلام کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے بغیر اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ آپؓ کا قبولِ اسلام خود ایک تاریخی واقعہ تھا۔ وہ شخصیت جو ابتدا میں اسلام کی سخت مخالفت کرتی تھی، جب نورِ ہدایت سے........
