menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Guftan, Nashistan, Barkhastan

20 0
previous day

یہ محاورہ ہم سب برسوں سے سنتے آ رہے ہیں، مگر اگر اس کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو اُستامحمد کی کسی کھلی کچہری میں چلے جائیں وہاں یہ محاورہ صرف الفاظ نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل منظر بن کر سامنے آ جاتا ہے۔

کھلی کچہریوں کا مقصد بظاہر نہایت اعلیٰ ہے، عوام کے مسائل سننا، فوری حل فراہم کرنا اور ریاست و شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ملک بھر میں اس روایت کو عوامی خدمت کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ہمارے ضلع میں بھی اس کا انعقاد تسلسل کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ان کچہریوں سے عوام کو وہ ریلیف مل رہا ہے جس کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

گزشتہ پیر کے روز بوائز ڈگری کالج اُستامحمد میں منعقد ہونے والی حالیہ کھلی کچہری اس سوال کا واضح جواب دیتی نظر آئی ایک ہفتہ قبل اس کا اعلان کیا گیا وقت صبح دس بجے مقرر تھا، مگر ساڑھے دس بجے تک چند افسران کے سوا کوئی نمایاں موجودگی نہ تھی عوام کی شرکت بھی ابتدا میں مایوس کن رہی کرسیاں خالی........

© Daily Urdu (Blogs)