Nakami Ka Khauf Aur Wapsi Ka Fan
ناکامی کا خوف اور واپسی کا فن
میں نے دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان فاصلہ صرف ایک فیصلے کا ہوتا ہے، وہ فیصلہ جو انسان اپنی شکست کے بعد کرتا ہے۔
آپ گرنے کے بعد کیا کرتے ہیں؟ میں آج آپ کو ایک ایسے لڑکے کی کہانی سنانا چاہتا ہوں جسے ایک دن اس کے اسکول کی باسکٹ بال ٹیم سے نکال دیا گیا، وہ گھر آیا، دروازہ بند کیا اور رویا اور پھر اس نے ایک فیصلہ کیا، ایسا فیصلہ جس نے اسے دنیا کا عظیم ترین کھلاڑی بنا دیا۔ یہ کہانی ہے مائیکل جارڈن کی۔
مائیکل جارڈن کی زندگی ہمیں ایک عجیب سچ سکھاتی ہے، ہم عموماً کامیاب لوگوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پیدائشی طور پر غیر معمولی ہوتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، وہ عام ہوتے ہیں، بالکل ہماری طرح، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ناکامی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے۔
مائیکل جارڈن بھی ایک عام گھرانے میں پیدا ہوا، اس کا بچپن ولمینگٹن کی گلیوں میں گزرا، اس کا والد جے جے جارڈن امریکی نژاد تھا اور وہ ایک الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا تھا، جبکہ اس کی والدہ ڈیلوئس ہارٹ جارڈن امریکی نژاد تھیں اور ایک ہوم میکر تھیں جو اپنے بچوں کی تربیت اور گھر کی دیکھ بھال میں مصروف رہتی تھیں، وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیلتا تھا، ہارتا تھا، جیتتا تھا اور آہستہ آہستہ اس کے اندر جیتنے کی ایک ضد پیدا ہوگئی۔ لیکن ضد اور حقیقت میں ہمیشہ فرق ہوتا........
